خطبات محمود (جلد 3) — Page 496
خطبات محمود ۴۹۶ جلد سوم عائد ہوتی ہیں۔مثلاً وہ لوگ جو حریت یعنی "حریت ضمیر " اور "حریت افعال کے بڑے حامی ہیں کیا ان میں سے کوئی اپنے باپ کو جوتے لگانے یا اپنی ماں کو چوٹی سے پکڑ کر مارنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے ؟ وہ نہ تو خود ایسا کرنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے اور نہ ہی تم اس کی ایسی حرکت کو پسند کرو گے۔بلکہ تم بھی اس پر ایک ذہنی قید وارد کرو گے اور کہو گے کہ کامل آزادی سے یہ مطلب نہیں کہ انسان مادر پدر آزاد ہو۔اسی طرح رسول کریم ﷺ نے دنیا میں مبعوث ہو کر لوگوں کو ایک بہت بڑی حریت عطا فرمائی ہے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ اب انسان اپنے عمل میں آزاد ہے یا جیسے عیسائی کہتے ہیں کہ شریعت لعنت ہے۔سہ اسی طرح نعوذ باللہ ہم شریعت کے احکام سے آزاد ہو گئے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کام میں تم کو بتا تا ہوں وہ کرو اور جن سے میں روکتا ہوں ان سے بچو کیونکہ تمہارا اس میں فائدہ ہے۔تو بعض قیود اور پابندیاں اچھی ہوتی ہیں اور بعض قیود اور پابندیاں بری ہوتی ہیں۔جو اچھی پابندیاں تھیں وہ رسول کریم ﷺ نے لوگوں پر لگا دیں اور جو بری رسوم تھیں ان کے بچنے کی قیود ان پر عائد کر دیں اور یہ ان لوگوں کے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی۔آخر وہ پہلے بھی بعض کاموں کو چھوڑنے کی قیود اپنے اوپر رکھتے تھے اور بعض کاموں کو کرنے کی پابندیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔مگر رسول کریم ﷺ کی عائد کردہ پابندیوں کو ایک عرصہ کے بعد لوگوں نے پس پشت ڈال دیا اور اس نور کو جو ان کی طرف نازل کیا گیا تھا رد کر کے اپنے آپ کو غلط "حریت " کا دلدادہ بنالیا اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے خدا تعالٰی نے کروڑوں کروڑ میل پر سورج کو رکھا ہے جو بدبودار جگہوں، جو ہڑوں، تالابوں، نالیوں، نہروں، دریاؤں اور سمندروں وغیرہ سے بخارات کو اٹھاتا ہے اور پھر اس پانی کو نہایت مصفی کر کے واپس لوٹاتا ہے مگر انسان اس صاف کئے ہوئے پانی کو پی کر پیشاب، پسینہ یا بلغم وغیرہ بنا کر پھینک دیتا ہے۔اسی طرح انسان کا حال ہے کہ خدا تعالیٰ تو انسان کو نہایت پاک مصفی اور مطہر شریعت عطا کرتا ہے مگر جب انسان اسے گندہ کر کے پھینک دیتا ہے تو وہ بد نما نظر آنے لگتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے ذریعہ شریعت نازل کر کے خدا نے مسلمانوں کو بھی ہزاروں قسم کے گندوں سے نکالا تھا مگر آپ کے بعد آج پھر مسلمان اپنی غلطیوں سے ان ہی قید و بند کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں جن سے رسول کریم نے ان کو نکالا تھا اور باوجود شریعت اسلام کے پاک و مظہر ہونے کے خود مسلمانوں نے اس کو غیروں کے لئے بد نما داغ بنا رکھا ہے۔مثلاً جب ان سے نماز کے لئے کہا جائے تو کہتے ہیں