خطبات محمود (جلد 3) — Page 495
خطبات محمود ۴۹۵ جلد سوم قیدیں لگا رکھی ہیں اسی طرح قانون قدرت میں اللہ تعالی کی طرف سے بعض پابندیاں عورتوں پر لگا دی گئی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اولاد پیدا کریں اس لئے حاملہ عورتوں کو بعض حالات میں ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق لیٹے رہنا پڑتا ہے تو جسے ہم آزاد کہتے ہیں دراصل وہ بھی بعض پابندیوں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے اور جسے ہم غلام یا قیدی کہتے ہیں وہ بھی بعض باتوں میں آزاد ہوتا ہے۔چنانچہ چور جب قید ہوتے ہیں تو وہ باوجود قید ہونے کے ان کی روح آزاد ہوتی ہے اور وہ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ اس جگہ سے جب بھی چھوٹیں گے تو وہ اس چوری کو پورا کر کے چھوڑیں گے۔یا قتل کے ارادہ میں پکڑے جاتے ہیں اور ابھی فعل قتل کو مکمل نہیں کیا ہوتا تو وہ دل میں یہ عہد کئے ہوئے ہوتے ہیں کہ اب اگر اس قید سے نکل کر گئے تو اس قتل کو مکمل کر کے رہیں گے۔ایسا شخص بے شک آزاد ہے اور "مادر پدر آزاد شخص بھی آزاد ہے مگر در حقیقت ایسے شخص کو کوئی بھی شریف انسان آزاد نہیں کے گا اور نہ اس کے اس طریق کو آزادی سے تعبیر کرے گا۔لیکن ایک شخص جو اپنے گھر میں ہی بیٹھا ہوا ہے اور جو اس چوری یا قتل وغیرہ کے جرائم میں سے کسی ایک جرم کا خیال بھی دل میں آنے نہیں دیتا اور اگر کسی وقت کوئی معمولی سا خیال بھی آجائے تو وہ فوراً اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے تو اس پر بظاہر کون سی قید ہے جس کی وجہ سے وہ ایسا کرتا ہے۔تو غلامی اور قید در اصل نسبتی امر ہیں بعض باتوں میں ایک آزاد غلام ہوتا ہے اور بعض باتوں میں ایک آزاد بھی مقید ہوتا ہے۔اسلام نے بھی ایسی کلی آزادی نہیں دی کہ لوگ جو چاہیں کریں۔بلکہ اسلام نے بھی بعض باتوں پر قیود لگا دی ہیں کہ ایسا نہ کرو اور بعض باتوں میں جو لوگوں کی بھلائی کی تھیں انہیں آزادی دے دی ہے گو صرف نسبت کا فرق ہو گیا۔مثلاً پہلے بھی وہ اپنے اموال کو خرچ کرتے تھے مگر اب یہ کہا گیا کہ اسلام سے پہلے تو تم اپنے اموال کو غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کرنے کی بجائے شراب نوشی اور جوئے بازی میں خرچ کیا کرتے تھے لیکن اب یہ قید لگائی جاتی ہے کہ تم روپیہ تو خرچ کرو مگر نیک کاموں میں خرچ کرد شراب وغیرہ میں خرچ نہ کرو۔تو پہلی قیدیں جو ناجائز طور پر انہوں نے اپنے اوپر لگا رکھی تھیں اسلام نے ان کو دور کر دیا اور بعض نئی قیدیں جو ان کے لئے مفید تھیں وہ ان پر لگا دیں اور یہ آزادی یعنی "حریت" کے خلاف نہیں۔ہر ایک کے اوپر کچھ نہ کچھ قیدیں خواہ وہ شرعی ہوں یا اخلاقی ہوں یا ذہنی ہوں