خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 468

خطبات محمود ۴۶۸ بنتا ہے مومن نہیں بنتا۔اسی لئے کفار کے متعلق اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں۔نُؤْمِنُ بَبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ۔ہے کہ ہم بعض باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔تو جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کی صفات کا تجزیہ اور تقسیم کرتا اور اپنے ذہن میں یہ خیال کر کے خوش ہو رہا ہوتا ہے کہ میں الہی صفات کا مظہر ہو گیا دراصل وہ شیطان کے قریب ہو گیا ہوتا ہے۔ورنہ جو واحد اور منفرد خدا ہے اس کا تجزیہ کس طرح ہو سکتا ہے جس کا تجزیہ ہو سکتا ہے وہ تو شیطان ہی ہے اس لئے فرمایا۔یا يُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسِ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِى تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباًا۔تم چاہتے ہو کہ ہم ہی دنیا کے رقیب بن جائیں اور تمہیں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ ہمارے سر پر بھی کوئی رقیب اور نگران بیٹھا ہے۔پس کیوں تم اپنے آپ کو خدا بنانا چاہتے ہو اور کیوں یہ نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ نے یہ صفات اور یہ طاقتیں تم میں اپنے انعکاس اور تصویر کے لئے رکھی ہیں۔فرض کرو تمہاری کوئی تصویر ہو اور اسے قوت گویائی دے دی جائے اور وہ یہ کہنے لگ جائے کہ میں ہی اصل آدمی ہوں تو تم کس قدر اسے حقیر سمجھو گے اور اس کی اس حرکت پر ہنسو گے۔اس طرح ایک کاغذی انسان بلکہ کاغذ سے بھی زیادہ کمزور بے حقیقت اور ذلیل انسان اٹھتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی بعض صفات اپنے اندر لے کر جو اس کو کبر کے اظہار کی توفیق دے دیتی ہیں یہ کہنے لگ جاتا ہے کہ میں ہی رقیب ہوں، میں ہی مالک ہوں، میں ہی قادر ہوں اور وہ بھول جاتا ہے اس امر کو کہ خدا تعالیٰ جہاں قادر ہے، جہاں قہار ہے، جہاں جبار ہے وہاں وہ ستار بھی ہے، وہاں وہ غفار بھی ہے، وہاں وہ شکور بھی ہے، وہاں وہ غفور بھی ہے۔وہ وراء الورٹی طاقتیں اور عظیم الشان طاقتیں رکھنے کے باوجود پھر تذلل اختیار کرتا پھر انسان کی خدمت کے ہزاروں سامان پیدا کرتا، پھر ایک ادنی دوست کی طرح اس کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے آؤ میں تمہاری فلاں خدمت کروں، آؤ میں تمہاری راحت کے لئے فلاں سامان مہیا کروں۔پس وہ یہ نہیں سمجھتا کہ جس کی طرف سے اسے یہ طاقتیں ملی ہیں جب وہ یہ محبت کا طریق اختیار کرتا، اپنے بندوں کے لئے تنزل اختیار کرتا اور ان کی خدمت کے لئے ہزاروں سامان پیدا کرتا ہے تو میں جو اس کی ایک تصویر ہوں ان صفات سے کب مستغنی ہو سکتا ہوں مگر خدا تعالیٰ کی صفات کے وہ بعض حصے جو کبریائی اور بڑائی پر دلالت کرتے ہیں انہیں انسان جب اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے تو سمجھتا ہے کہ