خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 412

خطبات جلد سوم میں لگا رہتا ہے اور مستقبل کو نظر انداز کر دیتا ہے۔حالانکہ واپس وہ جانہیں سکتا اور آگے اس نے سامان بھیجا نہیں اب کون ہے جو اسے عقل مند کے گا۔حضرت مسیح علیہ السلام نے وَالتَنْظُرُ نَفْسُ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ - سلے کی کیا عمدہ مثال دی ہے۔فرماتے ہیں تم اپنے خزانے خدا کے پاس جمع کراؤ جہاں کیڑا نہیں لگتا۔ہے اس سے مراد یہی ہے کہ اس جگہ وہ ضائع نہیں جاتا۔شاید الهامی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کو یہ بتایا گیا ہو اور اس کی قوم کے بینک اس کے سامنے لا کر کشفی طور پر دکھائے گئے ہوں کہ تمہاری قوم ایسے خزانے جاری کرے گی جن میں سونے اور چاندی کی بجائے کاغذ کے سکے ہوں گے جن کو کیڑا کھا سکتا ہے۔غرض انسان کو چاہئے کہ وہ مستقبل کی فکر کرے۔جنت کی ہر چیز جو ہے وہ سڑنے والی نہیں اس لئے فرمایا جنت عدن سے یعنی وہاں جو چیز بھی ہے خواہ کتنی ہی نازک ہو سڑے گی نہیں۔وہاں دودھ کی نہریں ہیں، پانی ہے، میوے ہیں لیکن ان میں سے کوئی چیز سڑنے والی نہیں۔پس اللہ تعالی نے وَلَتَنْظُرُ نَفْسُ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ کی جو مثال دی ہے اس میں یہی بیان فرمایا ہے کہ اس سفر کی فکر کرو جو تمہارے آگے آنے والا ہے۔ماضی پر تمہیں کوئی تصرف حاصل نہیں، ہاں آئندہ کا علاج کر سکتے ہو۔اور حقیقت میں یہی معقول ترین طریق ہے جو شخص ماضی کی فکر کرتا ہے وہ ناکام رہتا ہے اور جو حال کی فکر میں پڑ جاتا ہے وہ بھی ناکام رہتا ہے۔کامیاب ہونے والا شخص وہی ہوتا ہے جو مستقبل کی فکر کرتا ہے۔جو لوگ ماضی کے پیچھے پڑ جاتے ہیں وہ ایک بے عقلی کی چیز میں لگ جاتے ہیں اور جو لوگ حال کے پیچھے لگ جاتے ہیں ان کی مثال اس انسان کی سی ہوتی ہے جو ایک ایسے کام کے پیچھے پڑا ہوا ہو کہ پیشتر اس کے کہ کام شروع کرے وہ ختم ہو جاتا ہے۔جو شخص مستقبل کی فکر کرتا ہے وہ یقینا ایسی چیز کے لئے کوشش کرتا ہے جو اس کے قابو میں آسکتی ہے اور حقیقت میں کسی چیز کی حفاظت کا یہی طریق ہے کہ آگے سے اس کا راستہ روک لیا جائے۔پرانے زمانہ میں وقت سے فائدہ اٹھانے کی جو تصویر بنائی جاتی تھی اس میں یہ دکھایا جاتا تھا کہ ایک شخص آگے سے ہو کر اس کے ماتھے کے بال پکڑ لیتا ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ وقت کو مستقبل سے ہی پکڑا جاتا ہے۔پس اللہ تعالٰی نے وَلَتَنْظُرُ نَفْسَ مَا قَدَّمَتْ لِغَدِ - میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مومنوں کو چاہئے کہ وہ ہر کام کرتے وقت ماضی کی فکر چھوڑ دیں تاکہ ان کی کوشش اور سعی رائیگاں نہ جائے۔مجھے یاد ہے کہ جب ملکانہ میں تبلیغ کا کام شروع کیا گیا تو اس وقت ارتداد کے باعث