خطبات محمود (جلد 3) — Page 411
خطبات محمود جلد سوم اب صرف مستقبل ہی رہ جاتا ہے لیکن سب سے کم خیال انسان مستقبل کے لئے کرتا ہے اور اپنے تمام اعمال کو ماضی کے لئے وقف کر دیتا ہے۔مثلا وہ کہتا ہے کہ میرے باپ دادے اور میرے آباء واجدادیوں کیا کرتے تھے مجھے بھی ایسا ہی کرنا چاہئے تاکہ ان کی شہرت بڑھے گویا دہ اپنے آباء واجداد کی شہرت کو خواہ وہ بری ہو یا بھلی اور زیادہ بڑھانے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔اسی طرح اگر وہ مسلمان ہے تو اس لئے کہ اس کے ماں باپ مسلمان تھے ، اگر ہندو ہے تو اس لئے کہ اس کے ماں باپ ہندو تھے ، اگر عیسائی ہے تو اس لئے کہ اس کے ماں باپ عیسائی تھے، وہ نماز اس لئے پڑھتا ہے کہ اس کے باپ دادے نماز پڑھا کرتے تھے ، گرجے میں اس لئے جاتا ہے کہ اس کے باپ دادے گرجے میں جایا کرتے تھے ، مندر میں اس لئے جاتا ہے کہ اس کے باپ دادے مندر میں جایا کرتے تھے غرض وہ جو کچھ بھی کرتا ہے سب ماضی کی خاطر کرتا ہے اور اس کے عمل کی بنیاد کسی ایسی حقیقت پر نہیں ہوتی جو مستقبل میں اس کو مل سکے۔اور ظاہر ہے کہ انسان جس کی خاطر کوئی کام کرتا ہے گویا اس کے پاس ایک امانت رکھتا ہے۔مثلاً جب کوئی شخص زید کی نوکری کرتا ہے تو اس کی مزدوری زید کے پاس جمع ہوتی ہے۔اسی طرح جب انسان اپنے آباء واجداد کے لئے کام کرتا ہے تو گویا وہ اپنی مزدوری اپنے آباء و اجداد کے پاس رکھتا ہے۔حدیث میں آتا ہے۔مَنْ كَانَتْ هِجْرَتُه إلى الله و رسوله فهجرته إلى الله و رَسُولِه۔سه یعنی جو شخص اللہ اور رسول کے لئے نیکی کرتا ہے (ہجرت سے مراد نیکی بھی ہے) اس کا فعل اللہ اور رسول کی طرف جاتا ہے۔اب یہ عجیب بات ہے کہ انسان جاتا تو اللہ کی طرف ہے مگر امانت یورپ کے کسی شہر کے بنک میں جمع کرا دے۔اگر کوئی احمق جاپان کو جاتا ہوا اپنی ہنڈیاں یورپ کے بنکوں میں جمع کرائے گا تو سنگا پور اور ہانگ کانگ پہنچ کر اسے معلوم ہو گا کہ اسے روپیہ نہیں مل سکتا۔پس عظمند انسان ہنڈیاں ان شہروں کے بنکوں کی لیتا ہے جو اس کے سفر کے راستہ میں آتے ہیں لیکن ہم انسانی اعمال کی طرف جب دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عام طور پر انسان کو مستقبل کا کوئی فکر ہی نہیں وہ ماضی کی طرف خیال لگائے بیٹھا ہے۔گویا وہ ان بینکوں میں روپیہ جمع کراتا ہے جو دیوالیہ ہو چکے ہیں اور جن کے دروازے بند ہو چکے ہیں مگر ان بینکوں کو بھول جاتا ہے جن کی شاخیں اگلے سفر میں کام آسکتی ہیں ایسے لوگوں سے زیادہ کون بیوقوف ہو سکتا ہے۔ایسے شخص کی مثال پر ایک بچہ بھی ہنس دے گا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عظمند کے افعال میں ایسی بیوقوفی کی بے شمار مثالیں پائی جاتی ہیں کہ وہ ماضی کی فکر -