خطبات محمود (جلد 3) — Page 364
خطبات محمود جلد سوم علیحدہ کر دیتے ہیں مگر پھر بھی وہ بے کار اور بے فائدہ نہیں ہوتا اور یہ نہیں کہ اس میں کوئی خوبی نہ رہے۔رسول کریم ﷺ کی نظر ہر پہلو پر تھی اور اسی لئے آپ نے فرمایا کہ کسی چیز کو خبیث نہ کہا کرو۔ہر چیز میں کوئی نہ کوئی خوبی ہے اور اس نکتہ کو اگر ہم سمجھ لیں تو بہت سے جھگڑے جو دنیا میں ہو رہے ہیں ختم ہو جائیں ، بہت سی تلخ زندگیاں خوشگوار ہو جائیں اور بہت سے برباد گھر آباد ہو جائیں۔یہ سب فساد اور جھگڑے اسی وقت تک ہیں جب تک ہم اپنے کو خدا سمجھتے ہیں اور دوسروں میں بھی خدا کی جھلک دیکھنا چاہتے ہیں۔حالانکہ کامل ہمہ وجوہ خدا ہی ہے باقی جو اشیاء ہیں ان میں سے کوئی کسی کے لئے زندہ ہے اور کسی کے لئے مردہ ، کسی کے لئے مفید ہے اور کسی کے لئے غیر مفید - کامل صرف اللہ تعالی ہی کی ذات ہے دوسری چیزیں اگر ایک جگہ نفع رساں ہیں تو دوسری جگہ مضر بھی ہو سکتی ہیں اور اگر دنیا کی اشیاء کو ہم خدا تعالی کی دی ہوئی آنکھ سے دیکھیں تو دنیا با امن ہو جاتی ہے۔احرار کو ہی دیکھ لو یہ گو ہمارے لئے جسمانی دکھ کا باعث ہیں ان کی گالیوں کی وجہ سے ہمارے کان تکلیف اٹھاتے ہیں مگر دل مطمئن ہیں کہ خدا نے ان کو بھی کسی غرض کے لئے پیدا کیا ہے بس دنیا میں امن قائم کرنے کا حقیقی ذریعہ یہی ہے کہ انسان اس نکتہ کو سمجھ لے۔ہر چیز جس میں ہم عیب دیکھتے ہیں۔اپنے نقطہ نگاہ کو بدل کر اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا کم سے کم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس میں گو ہمارے لئے فائدہ نہیں لیکن دوسری جگہ یہ مفید ہے بعض شادیاں ہوتی ہیں اور اولاد نہیں ہوتی۔میاں بیوی کو بانجھ سمجھتا اور بیوی میاں کو لیکن جب علیحدہ علیحدہ ہو کر بیوی کسی اور مرد سے اور میاں کسی اور عورت سے شادی کرلیتا ہے تو دونوں کے ہاں اولاد ہو جاتی ہے جس سے معلوم ہوا کہ دراصل وہ دونوں بانجھ نہ تھے وہ صرف ایک دوسرے کے لئے بانجھ تھے۔پس بسا اوقات انسان ایک چیز کو مصر سمجھتا ہے حالانکہ وہ صرف اس کے لئے مضر ہوتی ہے یا پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اس کا استعمال غلط طور پر کر رہا ہوتا ہے اس لئے اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔کوئی شخص اگر پاجامہ کو گلے میں پہن لے تو اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا کیونکہ یہ اس کا استعمال غلط ہے اور فائدہ صرف صحیح طور پر استعمال کرنے سے ہی پیدا ہو سکتا ہے۔له الفضل ۲۴- اپریل ۱۹۳۵ء صفحه ۱ ے مسند الامام الاعظم (سنن ابی حنیفہ) کتاب النکاح الفضل ۲۷- اپریل ۱۹۳۵ء صفحه ۴۳) الرعد : ۱۸