خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 363

۳۶۳ جلد سوم گندہ تھا مگر اس کے ملب ترائب میں ایسی پاکیزہ چیز تھی جو رکھے جانے کے قابل تھی اور جب اللہ تعالی کا غضب ابو جہل کو فنا کرنے پر آمادہ ہوتا تو عکرمہ کی روح چلا اٹھتی کہ مجھے کیوں فنا کیا جا رہا ہے۔یہ تو ایک مثال ہے۔ہر انسان کے اندر قسم قسم کی رو میں چلتی رہتی ہیں کہ وہ اپنے اپنے عرفان کے مطابق اس بات کو بخوبی سمجھ سکتا ہے ورنہ دنیا کی کسی چیز کو اللہ تعالی نے بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔پاخانہ ہے اسے ہم باہر پھینک دیتے ہیں وہ انسانی جسم سے فنا ہو جاتا ہے پھر کھاد کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور اس سے غلے پیدا ہوتے ہیں۔گویا جس مقام سے وہ بے فائدہ ہو گیا تھا وہاں سے اسے نکالا گیا مگر دنیا میں ابھی چونکہ اس کا فائدہ تھا اس لئے اسے دنیا سے مٹایا نہیں گیا بلکہ اس سے پھر وہ سبزہ اور ترو تازگی پیدا ہوتی ہے جس کے دیکھنے کے لئے ہم گھروں سے دو دو میل دور نکل جاتے ہیں۔ہم اسے دیکھ کر دل کو بہلاتے ہیں مگر اس وقت یہ خیال بھی نہیں کرتے کہ یہ اسی گندے پاخانہ سے پیدا شدہ ہے۔تو دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جو حمد الہی کا ثبوت نہ دے رہی ہو۔اس خطبہ میں الحمد کو پہلے رکھا اور نحمدہ کو بعد میں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حمد تو دنیا کا ہر ذرہ کر رہا ہے اور محمدہ ہمارے متعلق ہے اور ہم تھوڑی کرتے ہیں۔ہماری حمد تو ایسی ہے جیسے سمندر میں سے کوئی چڑیا چونج میں پانی لے جائے۔پس جب معلوم ہوا کہ کائنات کا ہر ذرہ اپنے اندر فوائد رکھتا ہے تو ہم کسی چیز کو حقیر نہیں کہہ سکتے اور فنا کرنے پر آمادہ نہیں ہو سکتے کیونکہ جس چیز کو ہم فنا کرنے کے لئے تیار ہو جائیں ہمیں کیا معلوم ہے کہ اس میں اللہ تعالٰی نے کس قدر فوائد رکھتے ہیں۔رسول کریم کفار عذاب مانگتے ہیں مگر اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہمارا یہ نبی خواہ کتنی بڑی شان کا کیوں نہ ہو عذاب ہم نے اپنے قبضہ میں ہی رکھا ہے کیونکہ کیا خبر کہ وہ کسی ایسے آدمی کو بھی مار دے جسے ہم نے زندہ رکھنا ہو۔پس دنیا کی لڑائیاں جھگڑے جو باپ، بیٹا، میاں بیوی، بھائی بھائی، رشتہ داروں اور محلہ والوں میں ہم دیکھتے ہیں یہ سب عقل کی کو تاہی کا نتیجہ ہیں۔ہم جس چیز میں عیب دیکھتے ہیں اگر خدا تعالی کی نظر میں بھی وہ ایسی ہی ہوتی ہیں تو یقیناً اسے مٹا دیا جاتا کیونکہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ہم عیب نہیں رہنے دیں گے اور جب تک کوئی چیز دنیا میں قائم ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ اس کے اندر کوئی نیکی اور کوئی خوبی موجود ہے ہماری آنکھ اگر نہیں دیکھتی تو اور بات ہے۔اگر کوئی شخص فسادی ہے تو بے شک ہو مگر ایک حصہ میں اگر وہ بے فائدہ ہے تو دوسرے حصہ میں ضرور مفید ہو گا۔میں نے پاخانہ کی مثال دی ہے جسے ہم جسم سے