خطبات محمود (جلد 3) — Page 350
خطبات محمود ۳۵۰ ہو گا تو اسی وجہ سے۔پس وہ شخص جو نوابی کے خیالات اپنے اندر رکھتا ہے جو خادمیت کے لئے اپنے نفس کو تیار نہیں پاتا تو میں نہیں سمجھ سکتا وہ کس طرح کامیاب ہو سکتا ہے۔ہاں خادمیت کے بعد اگر خدا تعالی کسی مقام پر انسان کو خود بٹھاتا ہے تو وہ دوسری بات ہے۔سید عبد القادر صاحب جیلانی فرماتے ہیں بعض دفعہ خدا تعالیٰ مجھے کہتا ہے اے عبد القادر ! تجھے میری ذات کی قسم تو اچھے سے اچھا کپڑا پہن اور میں پہن لیتا ہوں۔بعض دفعہ کہتا ہے اے عبد القادر جیلانی ! تجھے میری ذات کی قسم تو اچھے سے اچھا کھانا کھا اور میں کھا لیتا ہوں۔یہی مقام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملا۔آپ کو بھی خدا تعالیٰ نے عبد القادر کہا اور ایک رویا میں میرا نام بھی عبد القادر رکھا گیا ہے۔اس کے یہی معنے ہیں کہ اگر خدا تعالی کہے کہ اچھا کھانا کھاؤ تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اچھا کھائیں اور وہ کہے کہ اچھا کپڑا پہنو تو ہمارا فرض ہے کہ اچھا کپڑا پہنیں۔اسی طرح اگر وہ کہے کہ معمولی کپڑا پہنو تو یہ بھی ہمارا فرض ہے کہ اس حکم کی بھی اطاعت کریں۔پس ہماری کامل فرمانبرداری خدا کے لئے ہو۔اگر وہ کہے کہ آسمان پر بیٹھو تو ہم بیٹھ جائیں اگر وہ کہے کہ تحت الثریٰ میں چلے جاؤ تو ہم تحت الٹرکی میں چلے جائیں۔وہی ابراہیم والا مقام حاصل ہو کہ خدا نے انہیں کہا اسلم انہوں نے کہا اسلَمُتُ لِرَبِّ العلمين - سے ہمیں اس سے کوئی غرض نہ ہو کہ ہم دکھ میں پڑتے ہیں یا سکھ میں، ہمیں عزت حاصل ہوتی ہے یا ذلت بلکہ ہم دیکھیں کہ ہمارا خدا ہم سے کیا چاہتا ہے۔پھر جس رنگ میں وہ ہمیں رکھنا چاہے اس میں ہم خوش رہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری وقت کا یہ الہام ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے خاندان کے متعلق ہی ہے کہ آسمان ر سپردم بتو ماید خویش را تو دانی حساب کم پیش را یعنی اے خدا! اب میں دنیا سے جاتی دفعہ اپنا اہل و عیال تیرے سپرد کرتا ہوں تو جس حالت میں چاہے انہیں رکھیو چاہے تو اونچے مقام پر رکھ چاہے تو نیچے مقام پر۔یہ چیز ہے جسے ہر وقت اپنے سامنے رکھنا ہمارا کام ہے اور جب تک ہماری اولادیں اس مقصد کو اپنے سامنے نہیں رکھتیں وہ ان انعامات کو حاصل نہیں کر سکتیں جو حضرت مسیح موعود کی اولاد کے لئے مقدر ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ ظاہری اولاد کو بھی ایک فخر حاصل ہو تا ہے لیکن وہ فخر اسی وقت تک