خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 349

۳۴۹ جلد سوم نوکری کرنے سے انسان کو روٹی ملتی ہے۔لیکن اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ دین کی نوکری کرنے سے انسان کو ذلیل روٹی ملتی ہے تو کیا ہم نے خدا تعالی کے رسول کے ہاتھ پر یہ عہد نہیں کیا کہ اگر دین کے لئے ہمیں ذلت بھی برداشت کرنی پڑے گی تو ہم برداشت کریں گے۔گو میرے نزدیک دینی خدمت کے ذریعہ روٹی کھانا ذلت نہیں ذلت دنیا کی نوکریوں میں ہے نہ کہ خدا کی نوکری میں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کا بلواں (قادیان کے قریب ایک گاؤں) کے ایک سکھ نے مجھے سنایا کہ ایک دفعہ بڑے مرزا صاحب نے ہمیں بلا کر کہا غلام احمد کو جاکر سمجھاؤ کہ کوئی نوکری کرنے ورنہ میرے مرنے کے بعد اسے اپنے بڑے بھائی کے ٹکڑوں پر بسر کرنی ہوگی۔وہ کہتا میں ان کے پاس گیا اور کہا آپ کے والد صاحب ناراض ہوتے ہیں آپ نوکری کیوں نہیں کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ سنتے ہی ہنس پڑے اور فرمانے لگے والد صاحب کو یونہی فکر ہے میں نے تو جس کا نوکر ہونا تھا ہو گیا۔وہ سکھ یہ سن کر واپس چلا گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد صاحب سے کہنے لگا وہ کہتے ہیں جس کا نوکر میں نے ہونا تھا ہو چکا ہوں۔یہ سن کر باوجود دنیا داری کے خیالات کے انہوں نے ایک آہ بھری اور کہنے لگے کہ اگر وہ کہتا ہے کہ میں نو کر ہو گیا ہوں تو ٹھیک کہتا ہے وہ جھوٹ بولنے والا نہیں۔فرض ابراهیمی نسل ہونے کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کا فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی اس طرح بسر کرے کہ گویا دادی غیر ذی زرع میں رہتی ہے اور اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کر دے لیکن ہر کام تیاری سے آتا ہے اگر ہم کام وہ کرنا چاہیں جو رحمانی ہو لیکن طرز ہماری وہ ہو جو شیطانی ہو تو ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں دنیا اس وقت امارت اور حکومت کے خیالات میں مبتلاء ہے، دنیا اس وقت تکلفات میں مبتلاء ہے، دنیا اس وقت مغربی تہذیب کی دلدادہ ہو رہی ہے اگر ہم عملاً اس تہذیب اور اس امارت اور حکومت کی طرف جائیں تو ہمارے ارادوں میں برکت کس طرح ہو سکتی ہے۔شیطان کا گلا گھونٹنے کے لئے شیطانی ہاتھ کام نہیں آیا کرتا بلکہ شیطان کا گلا رحمانی ہاتھوں سے گھونٹا جاتا ہے۔پس جب تک ان امنگوں سے انسان عاری نہ ہو جائے جو اپنے اندر دنیا دارانہ رنگ رکھتی ہیں اس وقت تک انسان دین کے کام کا اہل نہیں سمجھا جاسکتا۔اسلام اسی وجہ سے دنیا میں کامیاب ہوا کہ اس نے محبت و پیارہ کو قائم کیا۔اور امارت و غربت کے امتیازات کو مٹا دیا۔آئندہ بھی اگر اسلام کا میاب