خطبات محمود (جلد 3) — Page 306
خطبات محمود جلد سوم حاصل ہو وہ تو کبھی شکوہ نہیں کرتا۔نکاح کے متعلق جو رسول کریم ﷺ نے ان آیتوں کو چنا ہے تو ان میں یہی حکمت ہے کہ نکاح میں بھی ایک اطاعت ہوتی ہے۔بیسیوں مرد میں نے دیکھے جو شکایت کرتے ہیں کہ عورتیں ان کی خدمت نہیں کرتیں اور بیسیوں عورتیں ایسی ہیں جو شکایت کرتی رہتی ہیں کہ مردان پر ظلم اور تعدی کرتے ہیں خدا تعالٰی فرماتا ہے تم اگر ایک دوسرے کو اپنی ذات میں خوش کرنے کی بجائے اس لئے خوش کرنے کی کوشش کرو کہ یہ اللہ کا حکم ہے تو اس کا نتیجہ بہت خوشگوار ہوگا۔میاں بیوی کی اطاعت کرے اور بیوی میاں کی اطاعت کرے اس لئے کہ یہ خدا کا حکم ہے تو ہمیشہ نتیجہ اچھا ہوتا ہے۔بیسیوں باتیں ہیں جن میں خاوند کو بیوی کی اطاعت کرنی پڑتی ہے اور بیسیوں باتیں ایسی ہیں جن میں بیوی کو خاوند کی اطاعت کرنی پڑتی ہے۔کوئی خاوند نہیں جو بیوی کی نہ مانے اور کوئی بیوی نہیں ہے جسے کئی باتیں اپنے خاوند کی نہ مانی پڑیں۔یہ علیحدہ بات ہے کہ کئی زور سے منواتے ہیں اور کئی محبت سے مگر چاہے وہ غلط طریق سے منوائیں یا صحیح طریق سے انہیں ایک دوسرے کی اطاعت کرنی پڑتی ہے۔ان آیات میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک دوسرے کی اطاعت کی جائے اور ایک دوسرے کو محض خدا کے لئے خوش رکھنے کی کوشش کی جائے تو نتیجہ اچھا پیدا ہو گا۔ہو نہیں سکتا ایک شخص خدا کی رضا کے لئے کام کرے اس کے احکام پر عمل کرے اور پھر اسے ایسا دکھ پہنچے جو اسے تباہ کر دے۔انسان کیا چیز ہے اللہ تعالیٰ تو وہ ہستی ہے جو ایک ہی لحظہ میں زمین و آسمان کو تباہ کر سکتا ہے اور کوئی انسان اس کے قبضہ اور تصرف سے باہر نہیں۔ایران کے بادشاہ نے ایک دفعہ اپنے گورنر یمن کو لکھا کہ میں نے سنا ہے عرب میں ایک شخص نے رسالت کا دعویٰ کیا ہے میرا یہ حکم جس وقت پہنچے اسی وقت اسے گرفتار کر کے میرے پاس بھیج دیا جائے۔گور نریمن نے اپنے سپاہی بھیجے جب وہ رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچے اور آپ سے انہوں نے شاہ ایران کے پیغام کا کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا ٹھہرو صبح میں اس کا جواب دوں گا۔صبح کے وقت آپ نے فرمایا تمہارے خدا کو میرے خدا نے آج رات ہلاک کر دیا ہے۔گور نر ا ر سو ل ا م ر م م ا ا ا ا ا ا ا ا ا یہ جواب سن کر حیران رہ گیا اور کہنے لگا ایسا دلیری کا جواب جھوٹا شخص نہیں دے سکتا۔بہر حال اس نے کہا میں انتظار کروں گا اور دیکھوں گا کہ یہ بات کس طرح پوری ہوتی ہے۔کچھ دنوں