خطبات محمود (جلد 3) — Page 295
خطبات محمود ۲۹۵ جلد سوم کشتیوں میں، غرضیکہ ہر چیز میں خدا تعالیٰ کے نشان نظر آسکتے ہیں۔حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرنے والا غور کرتا ہے کہ خدا تعالٰی نے ان دریاؤں میں کیا فوائد رکھے ہیں، لکڑی کی بنی ہوئی کشتی پانی میں کیوں تیرتی ہے، پہاڑ، سمند ر وغیرہ انسانوں کو کیا فائدہ پہنچاتے ہیں اور پھر انسان کی پیدائش سے پہلے ان سب کو کیوں پیدا کیا۔ان باتوں پر غور کرنے سے وہ سمجھ جاتا ہے کہ کائنات عالم کا ہر ذرہ ایک نشان ہے۔جب ظاہری اور مادی دنیا کی ہر چیز اور اس کا ایک ایک ذرہ اپنے اندر نشان رکھتا ہے تو روحانی دنیا سے تعلق رکھنے والی ہر شے کیوں نشان نہ ہو گی۔اگر مادی سورج، چاند، سمندر، پہاڑ، لکڑی، لوہا، زمین، آسمان غرضیکہ ہر چیز ایک نشان ہے تو روحانی زمین و آسمان، روحانی چاند سورج وغیرہ کتنے بڑے نشان ہوں گے لیکن بات یہ ہے کہ ہر ایک کی نگاہ اتنی وسیع نہیں ہوتی اور نہ ہر انسان حقیقت کو دیکھ سکتا ہے۔جس طرح ساری دنیا کے اموال ایک ہاتھ میں جمع نہیں ہو سکتے اسی طرح روحانی اموال کا حال ہے۔دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ بھی سب چیزوں کے مالک نہیں ہوتے وہ بعض کے مالک ہوتے ہیں بعض کے بالواسطہ مالک ہوتے ہیں اور بعض کے مالک نہیں ہوتے۔ان کی رعایا کے لوگ اپنے اپنے گھروں، زمینوں، کنووں کے خود مالک ہوتے ہیں۔یہی حال روحانی علوم کا ہے کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی تمام روحانی اموال کا مالک نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں بعض ایسی پیشگوئیاں ہیں جن کا حقیقی مفہوم رسول کریم ﷺ پر بھی نہ کھلا۔بعض نادان سمجھتے ہیں یہ ہتک اور گستاخی ہے حالانکہ یہ غلط ہے اور اس کا ثبوت دنیاوی سلسلہ پر غور کرنے سے مل سکتا ہے کیونکہ روحانی اور دنیاوی سلسلے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔جس طرح دنیاوی بادشاہ بعض اشیاء کا مالک ہوتا ہے لیکن اس سے آگے ملکیت در ملکیت بھی ہوتی ہے۔مگر پھر بھی بادشاہ ہی مالک ہوتا ہے کیونکہ جب وہ رعایا کے تمام افراد کا مالک ہے تو ان کی مملوکہ اشیاء کا مالک بھی ہو گا۔غرض ایک ملکیت تو براہ راست ہوتی ہے اور ایک قبضہ و تصرف والی ملکیت ہوتی ہے بعض اشیاء پر بادشاہ کو بادشاہت کے لحاظ سے تو ملکیت حاصل ہوتی ہے مگر قبضہ و تصرف کے لحاظ سے نہیں ہوتی۔قبضہ و تصرف کی ملکیت اس کو حاصل ہوتی ہے جس کے کھاتہ میں اس کا اندراج ہوتا ہے اور اس کے متعلق خرید و فروخت کرنے کا حق بھی اسی کو ہوتا ہے۔ہندوستان کی زمین گورنمنٹ کی ملکیت ہے مگر باوجود اس کے انگریز لوگوں سے ان کی زمینیں یونسی لے نہیں سکتے اگر چہ بادشاہ