خطبات محمود (جلد 3) — Page 231
خطبات محمود ۲۳۱ جلد سوم جاسکتی۔ہاں خاوند اگر ظلم کرے تو قاضی کے پاس وہ شکایت پیش کر سکتی ہے لیکن اگر خاوند اس میں روک ڈالے اور گھر سے باہر نہ نکلنے دے تو پھر وہ گھر سے بلا اجازت باہر نکل سکتی ہے مگر اس کا فرض ہے کہ جلد ہی مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کر دے تا قاضی دیکھ لے کہ آیا اس کے باہر نکلنے کے کافی وجوہ ہیں یا نہیں۔پھر وہ اس کو خواہ باہر رہنے کی اجازت دے دے یا گھر میں واپس لوٹنے کا حکم دے۔پس اگر خاوند ظلم کرتا ہو اور حقوق میں روک ڈالتا ہو اور قضاء میں جانے نہ دے تو پھر عورت بلا اجازت شوہر باہر نکل سکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ قلیل ترین عرصہ میں وہ اس کے خلاف آواز اٹھائے (مثلاً ۲۴ گھنٹے کے اندر یا اگر مقدمہ عدالت میں ہو تو جتنا عرصہ درخواست کے دینے میں عموماً لگتا ہے۔) ہمارے ملک میں یہ بالکل غلط طریق رہا ہے کہ عورت خاوند سے لڑ کر اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاتی ہے اور وہاں بیٹھی رہتی ہے۔والدین اس کی ناحق طرفداری کرتے ہیں اور فساد بڑھتا ہے دونوں کا معاملہ شریعت کے مطابق ہونا چاہئے۔عورت بحیثیت انسان ایسی ہی انسان ہے جیسے مرد۔وہ اپنے دین ایمان اور حریت میں ایسی ہی قائم ہے جیسے تم۔مثال کے طور پر میں بعض عقائد کا ذکر کرتا ہوں جن میں عورت کے مذہب کا احترام لازمی ہے۔بعض فقہاء کا خیال ہے کہ وضو کی حالت میں اگر مرد کسی محرم کو چھوئے تو وضو نہیں ٹوٹا مگر بعض کا عقیدہ ہے کہ وضو ٹوٹ جاتا ہے۔اب اگر عورت کا یہ مذہب ہو کہ وضو ٹوٹ جاتا ہے تو خاوند کا فرض ہے کہ اس کو وضو کی حالت میں نہ چھوٹے اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ اس کے عقیدہ یا مذہب میں دخل دے۔پس عورت کو اپنے عقائد میں کامل حریت دینی ہوگی۔ہاں عقل یا دل کے معاملات کی ہم پرواہ نہیں کریں گے۔مثلاً اگر کوئی عورت یہ کہے کہ میری عقل کہتی ہے یا میرا دل چاہتا ہے کہ فلاں بات یوں نہ ہو تو اس کا احترام لازمی نہیں۔جب خدا نے ان باتوں کی پرواہ نہیں کی تو ہم کیوں کریں۔پس یہ اصول صرف شریعت کے عقائد کے متعلق ہیں۔اسی طرح حیض کے متعلق بھی مسلمانوں کا اختلاف ہے کیونکہ بعض کا خیال ہے کہ عورت کے ساتھ حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کرنے سے قبل صحبت جائز ہے۔مگر بعض کے نزدیک غسل کے بعد جائز ہے اگر عورت کا یہ عقیدہ ہو کہ غسل سے قبل صحبت نا جائز ہے تو مرد کا فرض ہے کہ اس کے پاس نہ جائے جس طرح عورت کا فرض ہے مرد کے مذہب کا پاس کرے