خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 221

خطبات محمود ۲۲۱ جلد سوم عورتوں کے لئے مضامین لکھنا رسم و رواج کی وجہ سے اور ان میں جرأت نہ ہونے کے باعث بہت مشکل ہے۔ایسی حالت میں اگر کوئی عورت اس طرف توجہ کرتی ہے تو معلوم ہوا اس میں زیادہ دلیری اور جرات ہے اور اپنے طبقہ سے زیادہ اخلاص اور محبت ہے۔میرے نزدیک یہ بھی بزدلی ہے کہ رسم و رواج پر انسان غالب نہ آسکے اور جو کوئی رسم و رواج کو دبا کر کوئی کام کرتا ہے اس کو میں دوسروں کی نسبت زیادہ دلیر اور باہمت سمجھتا ہوں۔میرے نزدیک ان خاوندوں کا یہ فرض ہونا چاہئے جن کی بیویاں مضمون نویسی کا شوق رکھتی ہوں اور اس کے متعلق جرأت کر سکتی ہوں کہ ان کے اس علمی مذاق کو دبائیں نہیں بلکہ ابھارنے کی کوشش کریں۔اس وقت ہماری عورتوں کے مضامین نہ لکھنے میں جس چیز کی کمی ہے وہ علم نہیں بلکہ جرأت ہے۔مردوں میں سے کئی ایسے ہیں جو بعض عورتوں سے بہت کم علمی قابلیت رکھتے ہیں مگر وہ مضامین لکھتے ہیں اور کئی عورتیں ہیں جو ہزاروں مردوں سے زیادہ علم رکھتی ہیں۔قرآن اور حدیث پڑھی ہوئی ہیں اور سمجھ کر پڑھی ہوئی ہیں ان کی دینی قابلیت بھی مکمل ہے مگر باوجود اس کے وہ کوئی مضمون نہیں لکھتیں حالانکہ کئی ایسے مرد ہیں جو قرآن کریم کا صحیح ترجمہ بھی نہیں جانتے وہ اچھے اچھے مضامین لکھتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مردوں میں ایک دوسرے کو دیکھ کر جرات پیدا ہو جاتی ہے اور کوشش کرتے کرتے اچھا لکھنے لگ جاتے ہیں کیونکہ عورتیں اپنے سامنے کوئی نظیر نہ ہونے کی وجہ سے اور جرأت کی کمی کے باعث اس کام کے کرنے کی جرات نہیں رکھتیں۔اگر کچھ عورتیں ایسی نکلیں جو مثال قائم کر دیں تو اور بھی کئی عورتیں مضامین لکھنے لگ جائیں۔اس لئے وہ عورتیں جن میں مضمون نویسی کا ملکہ ہو ان کی ہمت بڑھانی چاہئے اور ان کو مدد دینی چاہئے۔اس وقت میں بشارت خاتون بنت شیخ مولا بخش صاحب کے نکاح کا بابو عبد العزیز صاحب اور رسیتر گوجرانوالہ کے ساتھ اعلان کرتا ہوں۔شیخ مولا بخش صاحب پرانے اور مخلص احمدی ہیں ان کی طرف سے ان کے بڑے لڑکے میاں مبارک اسماعیل صاحب موجود ہیں۔شیخ صاحب نے مہر وغیرہ کے متعلق مجھے لکھ دیا ہے چونکہ بعد میں باتیں پیدا ہو جاتی ہیں اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ پونے دو ہزار کے قریب زیور کے علاوہ ایک ہزار روپیہ مہر ہو گا۔لے تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا۔الفضل ۲۳ اپریل ۱۹۲۶ء صفحه (۸)