خطبات محمود (جلد 3) — Page 220
خطبات محمود ۲۲۰ ۶۰ جلد احمدی خواتین اور مضمون نویسی (فرموده ۱۹۲۵ء) له بشارت خاتون بنت شیخ مولا بخش صاحب کا نکاح بابو عبد العزیز صاحب او رسینیر گوجر انوالہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے پڑھا اور حسب ذیل خطبہ ارشاد فرمایا : اے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اس وقت جس نکاح کے خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں اس سے مجھے ذاتی طور پر بھی ہے۔سال کے قریب عرصہ ہوا میں نے عورتوں کے اخبار ”تہذیب نسواں " لاہور میں ایک مضمون پڑھا جو کسی احمدی عورت کا لکھا ہوا معلوم ہوا۔اس کے نیچے عورت کا نام نہ تھا لیکن اس مضمون میں میرا حوالہ دیا گیا تھا اس سے میں نے سمجھا کہ کسی احمدی عورت کا ہو گا۔اس کے بعد میں نے ایک مضمون اسی اخبار میں پڑھا جس میں میرے ایک مضمون کو اپنے الفاظ میں لکھا گیا تھا۔اس سے مجھے اور خیال پیدا ہوا کہ مضمون لکھنے والی خاتون احمدی ہے۔مردوں کے چونکہ اپنے اخبار ہیں اس لئے وہ ان میں مضامین لکھتے رہتے ہیں لیکن عورتوں کے اخبار نہ ہونے کی وجہ سے یا ایک آدھ ہونے کی وجہ سے بہت کم عورتیں ہیں جو مضمون لکھتی ہیں اس وجہ سے مجھے خوشی ہوئی کہ ایک احمدی عورت نے مضمون لکھنے شروع کئے ہیں۔میں نے لاہور سے آنے والے کئی دوستوں سے پوچھا کہ ” تہذیب نسواں" میں مضمون لکھنے والی کون احمدی عورت ہے؟ مگر انہوں نے لاعلمی ظاہر کی اب مجھے اس تقریب پر معلوم ہوا کہ وہ یہی احمدی عورت تھیں جن کا میں اب نکاح پڑھنے لگا ہوں۔