خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 212

خطبات محمود ۲۱۲ جلد سوم ہی کرائی ہے حالانکہ تعلقات کے لحاظ سے مجھے چاہئے تھا کہ میں کرا تا مگر میں نے دخل نہیں دیا تھا۔شادی کے بعد پانچ سال تک ان کی پہلی بیوی نے مجھے سلام تک نہ کیا۔یہ اس قسم کے واقعات ہیں کہ ہماری مثال مالن کی سی ہو جاتی ہے۔مگر چونکہ یہ بزدلی ہے کہ انسان اپنے فرائض کو لوگوں کے خیالات اور آراء کے ڈر سے چھوڑ دے اس لئے میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔آج مجھ سے دو شخصوں نے سوال کیا کہ کیا آپ خود نکاح پڑھائیں گے۔ان میں سے ایک کا تو مجھ پر ادب واجب تھا اس لئے ان کو اتنا ہی جواب دیا ہاں میں ہی پڑھاؤں گا مگر دوسرے سے میں نے کہا میں نہیں پڑھاؤں گا تو کیا تم پڑھاؤ گے۔دراصل ان کا یہ سوال کرنا تحریک تھی اس بات کی کہ تم دو فائروں میں اپنے آپ کو کیوں کھڑا کرتے ہو لیکن یہ سخت غلطی ہے کہ انسان اس قسم کی باتوں سے ڈر جائے۔اس کا فرض ہے کہ اپنی ذمہ داری کو صحیح طور پر اور نیک نیتی سے ادا کرے۔پھر اگر اس پر کسی کو نا جائز ناراضگی پیدا ہوتی ہے تو اس کی پرواہ نہ کرے۔باقی ہماری مثال اسی مالن والی ہے جو چاہتی ہے کہ اس کی دونوں لڑکیاں آباد رہیں۔ہماری بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ طرفین راضی رہیں لیکن اگر کوئی مجبوری پیش آئے جو خدا تعالی کی طرف سے ہو تو انسان کو قبول کرنا چاہئے۔دوسری شادی کے متعلق دوست جانتے ہیں۔میری یہی رائے ہے کہ جو دوسری شادی کا بوجھ برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہو اس کے لئے اسلام پسند کرتا ہے۔لیکن تجربہ بتاتا ہے اور اس کی وجہ سے میری پہلی رائے کسی قدر بدلی ہے کہ لاکھوں کروڑوں میں سے کوئی انسان ہوتا ہے جو دوسری شادی کی برداشت کی طاقت رکھتا ہے۔مسئلہ کے لحاظ سے تو میری وہی رائے ہے جو پہلے تھی مگر مردوں کے حالات دیکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو عورتوں میں انصاف کرنا چاہیں ان میں سے بہت سے نہیں کر سکتے۔ادھر عورتوں میں جو بردباری اور متحمل ہونا چاہیئے وہ نہیں ہے ایسی حالت میں اگر کوئی انسان ان مشکلات کو حل نہیں کر سکتا اور جماعت کے متعلق میرا جو تجریہ ہے وہ یہی ہے کہ اکثر لوگ نہیں کر سکتے تو میں یہی کہوں گا کہ لوگ اپنے ایمان، اپنی بیویوں کے ایمان اور دوسرے لوگوں کے ایمان کی حفاظت کی خاطر ایک ہی بیوی کریں۔شاید یہ وجہ ہو کہ تعلیم زیادہ ہونے کی وجہ سے احساسات کمزور ہو گئے ہیں اور جو قوت برداشت پہلے لوگوں میں پائی جاتی تھی وہ اب نہیں رہی۔مگر کچھ ہو نظر یہی آتا ہے کہ مرد پوری طرح احساسات اور جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکتے اور عورتیں اس بردباری کو جو ہر مومنہ کا