خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 211

خطبات محمود جلد سوم پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مالن کی مثال بیان فرمایا کرتے۔فرماتے اس کی دو لڑکیاں تھیں ایک کمہاروں کے گھر بیاہی ہوئی تھی۔دوسری مالیوں کے ہاں جب کبھی بادل آتا تو وہ عورت دیوانہ وار گھبرائی ہوئی پھرتی۔لوگ کہتے اسے کیا ہوا ہے۔وہ کے ایک بیٹی ہے نہیں۔اگر بارش ہو گئی تو جو کمہاروں کے ہاں ہے وہ نہیں۔اور اگر نہ ہوئی تو جو مالیوں کے گھر ہے وہ نہیں۔کیونکہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے ترکاریاں نہ ہوں گی اور اگر ہو گئی تو کمہارن کے برتن خراب ہو جائیں گے۔میں نے سوچا ہے ہماری مثال کئی دفعہ ایسی ہی ہوتی ہے۔خصوصا دوسری شادی کے وقت۔وہ شادی ہوتی ہے ایک فریق کے لئے لیکن عورتوں میں قدر تا اس کے خلاف احساس ہوتا ہے اور رسول کریم ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا ہے اور ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ عورتوں میں پایا جاتا ہے۔یہ احساس جو عورتوں کو دوسری شادی کے خلاف ہوتا ہے اسے وہ شریعت کے احترام کی وجہ سے اور اپنی شرافت کے باعث دباتی ہیں مگر در حقیقت ان کے دل کے کونہ میں ایک چنگاری جل رہی ہوتی ہے اور خواہ اس میں سے دھواں نہ نکل رہا ہو مگر راکھ کے نیچے آگ ضرور دبی ہوتی ہے اور عورت کا دل اسے محسوس کر رہا ہوتا ہے اس لئے اگر وہ دوسری شادی کرنے کو برا نہ کے تو یہ ضرور کہتی ہے کہ اگر دوسری شادی نہ ہوتی تو اچھا ہوتا وہ عورتیں نادان اور بیوقوف ہیں جو دوسری شادی کو برا کہہ کر کافر بنتی ہیں کیونکہ ان کے لئے ایک راستہ تا ہے اور وہ ان کے نفس کی یہ خواہش ہے کہ اگر دوسری شادی نہ ہو تو اچھا ہوتا اور یہ خواہش کوئی گناہ نہیں۔جائز بات کے لئے بھی انسان کہہ سکتا ہے مثلا ایک شخص ایسی جگہ نوکر ہو جو اسے کسی وجہ سے ناپسند ہو تو یہ کہنے میں کوئی گناہ نہیں کہ اگر میں یہاں نو کر نہ ہوتا تو اچھا ہوتا۔میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ مرد کی دوسری شادی پہلی عورت میں ضرور جذبہ افسردگی پیدا کرتی ہے۔یہاں ایک شخص کی دوسری شادی ہوئی۔چونکہ عام طور پر لوگ جانتے ہیں اس لئے میں نام لیتا ہی نہیں اس شادی میں مجھے دخل دینا چاہئے تھا لیکن باوجود اس کے میں نے دخل نہ دیا تھا۔ان سے میرے ایسے تعلقات تھے کہ ایک دوسرے سے رابطہ کلام زیادہ ہوتا ہے مگر میں نے شادی کے معاملہ میں کوئی دخل نہ دیا تھا۔لیکن شادی کے بعد میں نے دیکھا ان کی پہلی بیوی مجھ سے پانچ سال تک ناراض رہی۔وہ نہیں کہتی تھی کہ دوسری شادی انہوں نے