خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 200

خطبات محمود جلد سوم مومن کے لئے شادی اور نکاح بھی ایسی کیفیات پیدا کئے بغیر نہیں رہ سکتا جن کا ذکر ان بزرگ نے کیا ہے۔دنیاوی لذتیں اور دنیاوی خوشیاں بے شک بہت سے انسانوں کی عقلوں پر پردہ ڈال دیتی ہیں اور انہیں آئندہ کی ذمہ داریاں بھلا دیتی ہیں۔محض نفسانی جوش اور حیوانی خواہشات قسم قسم کے نظارے ان کی آنکھوں کے سامنے پیش کرتی ہیں اور وہ عقل اور سمجھ سے بے بہرہ ہو کر خوشی سے ناچتے اور مسرور ہوتے ہیں مگر اس میں کیا شک ہے کہ ایک انسان کی شادی اس کے لئے بہت بڑا ابتلاء اور آزمائش ہوتی ہے۔میں ہمیشہ اس بات کو سوچ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ ابو الحکم جس کو بعد میں اس کے اعمال نے ابو جہل کر کے دکھایا اور اب ساری دنیا اسے یہی کہتی ہے اس کا خاندان بڑا آسودہ حال تھا۔جب اس کے باپ کی شادی ہوئی ہوگی کتنی خوشیاں منائی گئی ہوں گی، کتنے ناچ گانے ہوئے ہوں گے، اس وقت کے رسم و رواج کے مطابق کس طرح بے پرواہی سے شراب لنڈھائی گئی ہوگی، کتنی کنچنیاں ناچی ہوں گی، کسی قدر د میں بجائی گئی ہوں گی اور کیا ہی دولہا اور دلہن کے خاندانوں کو خوشی ہوئی ہوگی۔اس وقت انہیں کیا پتہ تھا کہ اس خوشی کے نتیجہ میں ایسا ماتم برپا ہو گا جو ابد الآباد تک ان کے خاندانوں کو بد نام رکھے گا اور وہ جسے عید کا چاند سمجھتے ہیں ان کے لئے پیام اجل ہو گا۔اور نہ صرف ان میاں بیوی کے لئے بلکہ ان کے تمام خاندان کے لئے اور ان پر ہمیشہ کے لئے کلنک کا ٹیکہ لگا دے گا۔اس کے مقابلہ میں محمد ﷺ کے والدین کی شادی کا خیال کرو۔ان کے گھرانے کی یہ حالت تھی کہ پیٹ بھر کے کھانا بھی میسر نہ ہوتا تھا اور آپ کے والد اس غریب گھرانے کے ساتویں لڑکے تھے ایسی حالت میں کیا ہی سادگی سے وہ شادی ہوئی ہوگی اور کیا ہی سادگی کے ساتھ میاں بیوی طے ہوں گے۔شاید اس وقت ان کے دل میں اس قسم کی حسرتیں بھی پیدا ہوئی ہوں کہ کاش ہم بھی امیر ہوتے دولت و ثروت رکھتے تو اس موقع پر خوشی مناتے دعوتیں کرتے مگر وہ خاموشی اور سمجید گی کے ساتھ اپنی امیدوں اور امنگوں کو دل ہی دل میں دفن کرتے ہوئے نوجوان مرد و عورت ملے ہوں گے۔اس وقت انہیں کیا معلوم تھا کہ آج وہ دنیا کی ترقی اور بیوردی کے لئے ایسا بیج بو رہے ہیں جو ہمیشہ کے لئے سارے عالم کو سرسبز و شاداب رکھے گا اور ایسا درخت پیدا ہو گا جو کبھی نہیں سوکھے گا اور اس سے اس قدر پودے پیدا ہوں گے کہ ساری دنیا کو باغوں سے بھر دیں گے۔یہ سادہ شادی جو کئی قسم کی افسردگیاں لئے ہوئے