خطبات محمود (جلد 3) — Page 199
خطبات محمود ۱۹۹ ۵۷ جلد سوم حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ سے نکاح کرنے کی غرض اور حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ کا ذکر خیر فرموده ۱۲ اپریل ۱۹۲۵ء) ۱۲- اپریل ۱۹۲۵ء بعد نماز مغرب حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے حضرت سارہ بیگم صاحبہ بنت محترم مولوی عبد الماجد صاحب بھاگلپوری سے اپنے نکاح کا اعلان فرمایا : اے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے کہ ان کو کسی بادشاہ نے کسی جگہ کا حج بنا دیا۔جب ان کے دوستوں اور ملنے والوں نے یہ خبر سنی تو نہایت خوشی سے اچھلتے کودتے ان کے گھر پہنچے اور جاکر انہیں مبارکباد دی اور ان سے مطالبہ کیا کہ کچھ کھلاؤ کیونکہ آپ حج ہو گئے ہیں مگر یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی کوئی حد نہ رہی کہ ان بزرگ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ بے اختیار چینیں مار کر رونے لگ گئے۔دوستوں نے کہا یہ کون سا رونے کا موقع ہے یہ تو خوشی کا مقام ہے کہ آپ کی عزت بڑھی ہے اور رتبہ بڑھا ہے۔انہوں نے کہا میرے لئے یہ کون سی خوشی کا موقع ہے اس سے زیادہ غم کی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ میں حج بن کر بیٹھوں گا اور دو شخص جھگڑا لے کر آئیں گے۔ان میں سے مدعی بھی جانتا ہو گا کہ حقیقت کیا ہے اور مدعا علیہ کو بھی معلوم ہو گا کہ اصلیت کیا ہے مگر میں جسے اس معاملہ کا کچھ بھی پتہ نہ ہو گا فیصلہ لکھوں گا۔گویا دو سو جا کھوں میں میں ایک اندھا بیٹھوں گا۔کیا یہ میرے لئے خوشی کی بات ہے۔