خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 184

خطبات محمود۔جلد سوم دوست تھا اس کو ساتھ لے کر وہ پیر بن گیا۔جہاں جائے اس کا ساتھی اس کی کرامتیں سنانے لگے اور لوگ نذریں لائیں۔ایک دن شام کو دن کی آمدنی دیکھ کر اپنے اس پاکھنڈ پر ہنس رہے تھے اس وقت اسے خیال آیا خدا سے جھوٹا تعلق بنانے پر اس قدر فائدہ ہو رہا ہے اگر سچا تعلق ہو تو کس قدر ہو گا۔یہ خیال آتے ہی اس کی حالت بدل گئی اور اس کی اصلاح ہو گئی تو بعض دفعہ انسان بناوٹی طور پر نیک نیت بناتا ہے مگر اس کی اصلاح ہو جاتی ہے۔شریعت اسلامیہ نے نکاح جو رکھا ہے اس میں بھی یہی حکم دیا ہے کہ نیت نیک کرو۔اس کے لئے اگر کوئی بناوٹی طور پر بھی نیک نیت کرلے تو وہ حقیقت کا رنگ اختیار کرلے گی۔ہماری شریعت نے یہ حکم دیا ہے کہ نکاح کرتے وقت تقویٰ مد نظر رکھو۔رسول کریم ال نے فرمایا۔کوئی حسن کے لئے شادی کرتا ہے۔کوئی مال کے لئے کوئی ذات کے لئے مگر اے مومن تو دیندار عورت تلاش کر کے اب دیکھو یہ ضروری نہیں کہ جو د پندار ہو وہ حسین نہ ہو یا مالدار نہ ہو یا اعلیٰ خاندان کی نہ ہو۔ہو سکتا ہے ایک عورت دینداز بھی ہو اور مالدار بھی یا دیندار بھی ہو اور حسین بھی ہو یا دیندار ہو اور اعلی ذات والی بھی ہو۔اور یہ سب باتیں بھی ایک جگہ جمع ہو سکتی ہیں۔اگر شادی کرنے والا تقومی کی نیت کرلے تو اس کی وہ غرض بھی پوری ہو جائے گی جو چاہتا ہے اور نیت کا ثواب بھی مل جائے گا۔مثلاً کوئی کے شہوانی قوت کے لئے شادی کرنا چاہتا ہوں لیکن اگر وہ یہ نیت کرلے کہ دیندار بیوی کروں گا تو بھی اس کی شہوانی قوت پوری ہو سکے گی۔شریعت نے ایسے شخص کو جو نکاح نہ کرے بقال قرار دیا ہے۔اگر شریعت میں نکاح کا حکم نہ ہوتا تو کہا جاتا کہ شہوانی ضرورت کے پورے ہونے کا کوئی سامان نہیں کیا گیا لیکن جب شریعت نے نکاح ضروری قرار دیا ہے۔تو پھر نیت کی اصلاح میں کیا حرج ہو سکتا ہے۔اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں گھر کی حفاظت یا کھانا پکانے اور بچوں کی پرورش کے لئے شادی کرنا چاہتا ہوں۔لیکن اگر وہ دین کی نیت کرلے تو کیا اس کی بیوی مال کی حفاظت نہ کرے گی کھانا نہ پکائے گی بچوں کی پرورش نہ کرے گی۔نیت نیک کر لینا تو دراصل مفت کرم داشتن والی بات ہے اور مفت میں خدا کے فضل کا جاذب بننا اور ثواب کا مستحق ہوتا ہے کیونکہ اس نیت سے کی ہوئی شادی شہوانی قوئی بھی پورے کرے گی مال کی حفاظت بھی ہوگی بچوں کی پرورش بھی ہوگی۔غرض جو کچھ بیوی کرتی ہے وہ بھی کرے گی مگر زائد یہ ہوگا کہ ثواب حاصل ہو جائے گا اور جو نیت کرلے گا خدا اس کی نیت کو بھی پورا کر دے گا اور اس مقصد کے پورا ہونے میں برکت