خطبات محمود (جلد 3) — Page 155
خطبات محمود ۱۵۵ جلد سوم رکھنے کے لئے دیکھ لو جن لوگوں کو حکومت مل جاتی ہے وہ اپنے راستہ سے ہر ایک رکاوٹ کو دور کرنا چاہتے ہیں اور یہ خواہش کہ خیالات محفوظ رہیں اکھڑ سے اکھڑ لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے۔حتی کہ وہ لوگ جن سے اگر مذہبی بات چیت ہو تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نہیں سمجھ سکتے کیونکہ یہ باتیں مشکل ہیں ہمیں کیا معلوم آپ کیا کہتے ہیں۔ان کی بھی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنی زندگی میں دو تین یا چار پانچ یا زیادہ لوگوں کو اپنا ہم خیال بنا لیتے ہیں۔ایک زمیندار جس کو دین سے کچھ بھی واقفیت نہیں ہوتی وہ بھی اپنے بچوں کو اپنا ہم مذہب بنا دیتا ہے۔ایک چوہڑا جس کو کچھ بھی عقل نہیں ہوتی اس کے بچے بھی وہی مذہب اور وہی خیالات سیکھ لیتے ہیں جو اس کے ماں باپ کے ہوتے ہیں۔اور پھر وہ ایسے پختہ ہوتے ہیں کہ انبیاء تک آتے اور ان کو سمجھاتے ہیں مگر وہ ان کی بات نہیں مانتے۔غرض یہ ایسی پختہ خواہش اور مستقل آرزو ہے کہ جہلاء تک میں بھی پائی جاتی ہے مگر کوئی انسان ایسا نہیں جو ہمیشہ رہے یا اس کے خیالات ہمیشہ رہیں اس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلْتَنْظُرُ نَفسُ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ - نکاح کی غرض یہ ہے کہ انسان دوام چاہتا ہے اور اسی کے لئے ہر قوم میں نکاح کی رسم ہے مگر اس سے صرف اسی قدر ثابت ہوا کہ نکاح کی ضرورت ثابت ہے مگر ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ اسلام اس بارہ میں کیا کہتا ہے۔اسلام یہ کہتا ہے کہ ولتَنْظُرُ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدِ صرف دوام ہی کوئی اچھی چیز نہیں بلکہ اس کے ساتھ کوئی چیز اور بھی ہوتی ہے جس کے ساتھ انسان دوام کا خواہش مند ہوتا ہے اور وہ یہ کہ انسان چاہتا ہے کہ اس کو دوام ملے اور دوام بھی ثاء اور تعریف کے ساتھ۔یہ کوئی انسان نہیں چاہتا کہ اس کو یا اس کی اولاد کو لوگ ،مکار، فریبی کے نام سے یاد کریں بلکہ اس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کو لوگ اچھا سمجھیں اور اچھا ظاہر کریں۔تو مومن کا اس کے لئے یہ کام بتایا کہ وہ دیکھے کل کے لئے کیا چھوڑ رہا ہے۔آیا یہ کہ لوگوں کو جب اس کی یاد آئے یا اس کی اولاد کو دیکھیں تو اس کو بدی سے یاد کریں اور کہیں کہ جیسے یہ بچے ملعون ہیں ویسا ہی ان کا باپ بھی ملعون ہو گا یا یہ کہ ان کو دیکھ کر ان کے اعمال کو دیکھ کر لوگ کہیں کہ یہ اچھے ماں باپ کے ہیں۔اگر وہ بد ہوں گے تو تم نے کل کے لئے اچھی چیز نہیں چھوڑی۔کل کے لئے چھوڑنے کے قابل اچھی ہی چیز ہو سکتی ہے۔اور اچھی اولاد پیدا کرنے کا طریق یہ ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات اچھے ہوں۔اگر ان کے تعلقات اچھے نہیں تو اولاد پر اچھا اثر نہیں پڑ سکتا۔اگر میاں بیوی میں تقوی اللہ ہو تو ان کی جو اولاد پیدا