خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 154

خطبات محمود ۱۵۴ جلد سوم سلسلہ میں کس قدر ترقی کریں گے اس کو اللہ تعالی ہی جانتا ہے مگر شیخ صاحب پر انے اور نو مسلم ہیں۔پہلے انہوں نے نام کا اسلام قبول کیا۔پھر سلسلہ میں داخل ہوئے اور اس وقت سلسلہ میں داخل ہوئے جب مخالفت کا زور تھا۔پس ان کی قدامت وغیرہ کی وجہ سے میں نے پسند کیا کہ یہ کا وغیرہ پسند کیا نکاح میں خود پڑھا دوں۔نکاح کے متعلق سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ اس کے خطبہ کی غرض کیا ہے۔اگر عورت و مرد کی صحبت اس غرض سے ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ جانوروں کیڑوں مکوزوں میں بھی جب شہوت کا جوش ہوتا ہے تو نر مادہ سے اور مادہ نر سے ملتی ہے۔پس اگر شہوت ہی مد نظر ہو تو نکاح کی کیا ضرورت ہے وہ تو بغیر نکاح کے جانور بھی پوری کر لیتے ہیں۔پھر اگر اس سے اعلان مد نظر ہو تو خطبہ کی کیا ضرورت ہے لیکن ایک عورت ایک مرد یا چند عورتیں اور ایک مرد جو ملائے جاتے ہیں اس کی ایک اور غرض ہے چنانچہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلَتَنْظُرُ نَفْسَ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ الله خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔لے اس میں شبہ نہیں کہ اس آیت میں نکاح کا ذکر نہیں مگر رسول کریم خطبہ نکاح میں اس آیت کو پڑھا کرتے تھے جس سے ثابت ہوا کہ اس میں نکاح کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔یہ آیت بتاتی ہے کہ تقویٰ اللہ اختیار کرو اور یہ سوچو کہ کل کے لئے کیا چھوڑتے ہو۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کل کے لئے کیا چیز ضروری ہے۔انسان کے اندر ایک خاص بات رکھی گئی ہے کہ وہ مدنی الطبع ہے۔دوسرے جاندار ایسے نہیں۔جانوروں کے تعلقات دائمی نہیں ہوتے مگر انسان دائمی تعلقات کی خواہش رکھتا ہے۔جانوروں کی حالت طبعی ہے کہ ان کو کسی خاص جانور سے تعلق نہیں ہوتا۔سوائے درمیانی حالت کے کہ وہ ایک جوڑا بناتے ہیں اور یہ ایک فیصدی سے زیادہ نہیں ہوں گے۔مگر ان کی بھی یہ حالت ہے کہ ان کی اولاد میں یہ بات نہیں ہوتی۔ایک اور بات یہ ہوتی ہے کہ اگر ایک مادہ مرجائے تو نر اپنے مادہ بچے سے تعلق پیدا کر لیتا ہے۔یا مادہ مرجائے تو نہ بچہ اپنی ماں سے مل جاتا ہے مگر انسان کی یہ حالت نہیں۔یہ حالت کا فرق بتاتا ہے کہ انسان کو تمدن کی ضرورت ہے دوسرے جانوروں کو نہیں۔اور تمدن کی ضرورت ہی جانوروں کی سی حالت سے انسان کو باز رکھتی ہے اگر یہ نہ ہو تو نسلوں کی حفاظت نہ ہو سکے۔انسان چاہتا ہے کہ اس کی نسل اور اس کے خیالات کی حفاظت ہو۔اپنی نسل کے جاری