خطبات محمود (جلد 3) — Page 129
خطبات محمود ۱۲۹ ۳۸ جلد مو نکاح کی اغراض فرموده ۶ - جنوری ۱۹۲۲ء) له خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا : نکاحوں کے معاملہ میں جن جن ہدایتوں کی ضرورت ہے اور جو صحیح رستہ ہے جس سے امن قائم رہتا ہے ہم وہ بیان کرتے رہتے ہیں مگر باوجود اس کے لوگ سمجھتے نہیں۔اصل میں لوگ بغیر مقصد کے کام کرنے کے عادی ہیں جس سے انجام کار خرابی لازم آتی ہے اگر مقصد پیش نظر رکھ کر کام کیا جائے تو نقص نہیں ہوتا دیکھو جب کوئی شخص گھر سے کسی کام کے لئے نکلتا ہے تو وہ راستہ میں نہیں ٹھہرتا بلکہ اس کام کو سرانجام دیتا ہے لیکن جس کا کوئی مقصود نہ ہو وہ جب راستے میں چلے گا تو جدھر کوئی لے جائے گا ادھر ہی چل پڑے گا۔یہی حال نکاح کا ہے اس کی غرض اور اس کے مقصد کو لوگ نہیں سمجھتے۔اسلام نے جو غرض نکاح کی رکھی ہے وہ تو بہت بڑی اور اعلیٰ ہے لیکن عموماً لوگوں کی جو اغراض ہوتی ہیں ان کو بھی اگر کوئی مد نظر رکھے تو فائدہ اٹھا سکتا ہے۔دنیاوی اغراض شہوت کا پورا کرنا یا اولاد حاصل کرتا ہے۔اگر یہ غرض پوری ہو تو امن ایک حد تک قائم رہتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کام کسی مقصد سے ہو وہ امن والا ہوتا ہے لیکن جو لوگ ان اغراض کو بھی مدنظر نہیں رکھتے ان کا امن خراب ہوتا ہے۔بعد میں جھگڑے ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ لڑکی کی صورت میں یہ نقص ہے ساتھ مال نہیں لائی۔کون ہے جو اچھی سے اچھی چیز نہیں چاہتا۔مگر پہلے سوچتا اور کوئی مقصد قرار دینا ضروری ہے۔مثلاً جن طالب علموں نے پاس ہوتا ہے وہ کسی ایک سوال کے حل نہ ہو سکنے سے دل برداشتہ نہیں