خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 88

خطبات محمود AA ۲۴ جلد سوم دل اور زبان کی اصلاح کی اہمیت (فرموده ۲۸ جنوری ۱۹۲۱ء) ۲۸- جنوری ۱۹۲۱ء بعد نماز عصر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ڈاکٹر محمد عالم صاحب وٹرنری اسٹنٹ کا نکاح فیروزہ بیگم بنت بابو محمد عمر حیات صاحب سے ایک ہزار روپیہ مہر پر پڑھا اور خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔اللہ تعالی نے قرآن شریف میں مومن کو اس بات کا ارشاد فرمایا ہے کہ وہ ہر ایک معاملہ میں اپنی ذمہ داری کو ادا کرے گا اور بقیہ اللہ تعالیٰ خود کر دے گا۔در حقیقت انسانی اعمال کا دائرہ اتنا وسیع ہے اور اس کا علم اتنا کمزور ہے کہ ہر پہلو کو مد نظر رکھنا نا ممکن ہے اور انسان کو اپنے اعمال کے نہایت قلیل حصہ میں دخل ہوتا ہے۔مثلاً انسان کو ہم دیکھتے ہیں اس کی زندگی کا ایک حصہ تو ایسا ہے کہ اس کے وجود کے قیام کے لئے اس کو خود کوئی اختیار ہی نہیں ہو تا۔مثلاً نطفہ کی حالت میں اس کو دخل ہوتا ہے نہ اس سے پہلے۔اس کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ میں بن رہا ہوں۔نہ کوئی بات اس کے قبضہ میں ہوتی ہے اور اس وقت اس کی حالت مردہ بدست زندہ کی سی ہوتی ہے۔پیدا ہو کر چند سال تک وہی حالت ناتوانی و کمزوری کی رہتی ہے دو تین سال تک یہ بالکل ماں باپ کے رحم پر ہوتا ہے اور اس کے بعد یہ اپنے مطالبات بہت مختصر طور پر پیش کر سکتا ہے۔مثلاً بھوک ہے، پیاس ہے اس سے زیادہ نہیں اس سے پھر اور ترقی کرتا ہے تو انتظام میں کچھ دخل دینا شروع کرتا ہے گو اس کے دخل کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔اور پھر اس سے ترقی کرتا ہے تو بعض باتیں منواتا ہے اور اکثر اس کو دوسروں کی ماننی پڑتی ہیں اور اس کو