خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 77

$1958 77 خطبات محمود جلد نمبر 39 اس کا بچہ ہونا روک بنے گا بلکہ اُس کا ایمان اور اس کی غیرت اِن سب چیزوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گی اور فتح کا جھنڈا اُس کے ہاتھ میں دے دے گی۔پس اپنے ایمانوں کو بڑھاؤ۔اپنے تفرقے دور کرو اور ذکر الہی کی کثرت کرو۔ذکر الہی کی کثرت کا ایک طریق قرآن کریم کا پڑھنا بھی ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ایک دفعہ ایک دوست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس سے آئے۔مجھے شبہ پڑتا ہے کہ وہ مولوی فضل دین صاحب تھے یا ممکن ہے کوئی اور دوست ہوں۔اور کہنے لگے حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ میں نے کوئی اڑھائی ہزار دفعہ قرآن کریم پڑھا ہے یہ کس طرح کی ہوسکتا ہے؟ میں نے کہا ہو تو سکتا ہے۔جس کے دل میں عشق ہو وہ اتنی دفعہ قرآن کریم پڑھ سکتا ہے۔کہنے لگے مجھے تو سمجھ نہیں آتا۔میں نے کہا مجھے تو یہ عجیب معلوم نہیں ہوتا۔اگر انسان کے اندر با قاعدگی پائی جاتی ہو اور اُسے چالیس پچاس سال کی زندگی مل جائے تو وہ ہزاروں دفعہ قرآن کریم پڑھ سکتا ؟ ہے۔غالبا حضرت صاحب نے احتیاطاً ایسا کہہ دیا ہوگا تا کہ جھوٹ نہ بن جائے ورنہ اگر ایک شخص کو ہیں سال بھی کام کرنے کا موقع ملے تو ہیں سال کے معنے یہ ہیں کہ تہتر سودن ہوئے۔اور ایک دن میں انسان دس پندرہ بلکہ میں سیپارے بھی اگر پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔اور اگر کوئی شخص پندرہ سیپارے روزانہ پڑھے تو وہ بیس سال میں تین ہزار چھ سو پچاس دفعہ قرآن کریم پڑھ سکتا ہے اور حضرت صاحب نے تو اڑھائی ہزار دفعہ کہا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بڑی احتیاط سے کام لیا ہے ورنہ حضرت صاحب نے تو اس سے بھی زیادہ پڑھا ہوگا یا مکن ہے حضرت صاحب نے پڑھنے سے مراد غور سے پڑھنا لیا ہو۔قرآن کریم کے ذکر میں مجھے یاد آیا کہ "تفسیر صغیر ہم نے بڑی محنت سے لکھی تھی لیکن کئی باتیں اُس میں پھر بھی رہ گئی ہیں۔مثلاً ایک بات تو یہ ہے کہ ضمیمہ میں جتنے نوٹ ہیں وہ سب سورۃ حج کے بعد کے ہیں حالانکہ پہلے بھی اور کئی نوٹوں کی ضرورت تھی۔میں نے تلاوت کے وقت کئی آیات نکلوا کر دیکھی ہیں جن پر کوئی نوٹ نہیں آیا۔مثلاً سورۃ کہف میں آتا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام اپنے معراج میں خدا تعالیٰ کے ایک برگزیدہ بندہ کے ساتھ جب ایک گاؤں میں گئے تو انہوں نے کھانا مانگان مگر لوگوں نے انہیں اپنا مہمان بنانے سے انکار کر دیا۔پھر انہوں نے اس بستی میں ایک ایسی دیوار پائی