خطبات محمود (جلد 39) — Page 61
$1958 61 خطبات محمود جلد نمبر 39 غرض بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ قریب ترین عزیز جو بڑی بڑی قربانیوں کا دعوی کرتے ہیں وہ بھی انسان کو چھوڑ کر الگ ہو جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ انسان کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ لو باوجود اس کے کہ جائیداد آپ کی تھی آپ نے صرف اپنی بھاوج کو خوش کرنے کے لیے اپنے بھائی کی وفات کے بعد اُن کی تمام جائیداد جس کے آپ وارث تھے اپنے بڑے بیٹے مرزا سلطان احمد صاحب کے نام لگوا دی تھی جسے انہوں نے اپنا مسیبی بنایا ہوا تھا۔وہ اپنے خاوند کی وفات پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آئیں اور کہنے لگیں میں بے اولاد ہوں۔میری تسلی کے لیے اپنے بھائی کی جائیداد سلطان احمد کے نام لگوا دو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی یہ بات مان لی اور وہ جائیداد مرزا سلطان احمد صاحب کے نام لگوا دی۔مرزا سلطان احمد صاحب تو چونکہ ملازم ہو گئے تھے پہلے نائب تحصیلدار ہوئے، پھر تحصیلدار ہوئے، پھر ای۔اے سی بنے ، پھر قائم مقام ڈپٹی کمشنر رہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کے ضل سے خود انہوں نے بڑی آمدن پیدا کر لی۔اس لیے انہوں نے اپنی ساری جائیداد اپنی تائی کے سپرد کی ہوئی تھی۔اور انہوں نے جائیداد آگے اپنے بھائی مرزا نظام دین صاحب کے سپر د کر دی تھی جو حضرت صاحب کے شدید دشمن تھے۔مگر باوجود اس کے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جائیدا دکھا رہی تھیں، جو کھانا وہ آپ کے لیے بھجواتی تھیں وہ نہایت ہی ادنی اور ذلیل قسم کا ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سارا دن مسجد میں بیٹھے رہتے تھے اور عبادت کرتے رہتے تھے۔اگر کوئی مسافر آ جاتا تو اُس کو وہاں لا کے آپ دین کی باتیں سناتے اور اپنا کھانا اُسے دے دیتے ہی اور خود دو پیسہ کے چنے بھنوا کر چبالیتے اور اُس سے گزارہ کر لیتے۔اس کو بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ایک عربی نظم میں یوں ادا کیا ہے کہ لفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أَكُلِى وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْاهَالِى 6 یعنی ایک زمانہ میں دستر خوانوں کے بچے ہوئے ٹکڑے میری خوراک ہوتے تھے کیونکہ آپ کی بھاوج اگر چہ آپ کی جائیداد پر قابض تھیں مگر جو کھانا وہ آپ کے لیے بھیجتی تھیں وہ اس حیثیت کا ہوتا تھا کہ گویا بچے کھچے ٹکڑے ہوتے تھے جو آپ کو بھیجے جاتے تھے مگر فرماتے ہیں وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْأَهَالِي