خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 60

$1958 60 خطبات محمود جلد نمبر 39 جاؤں۔مگر یہ کس طرح ہو سکتا ہے جبکہ میں دیکھتا ہوں کہ رات کو جب میرے عزیز ترین وجود بھی مجھے چھوڑ کر نیند میں محو ہو جاتے ہیں خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہوتا ہے۔تو جو ہستی رات کی تنہائیوں میں بھی میرے ساتھ ہوتی ہے میں لوگوں کے کہنے پر اُسے کس طرح چھوڑ دوں؟ وہ تو ایسے وقت میں بھی میرے ساتھ ہوتا ہے جب دنیا میں کوئی عزیز میرے ساتھ نہیں ہوتا۔ایسے وجود سے تعلق توڑنا میرے لیے ناممکن ہے۔میں دنیا کو چھوڑ سکتا ہوں مگر خدا تعالیٰ کو نہیں چھوڑ سکتا۔دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دوست کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر بیسیوں مواقع ایسے آتے ہیں کہ وہ بھاگ جاتے ہیں۔کئی دفعہ تو دوست کیا عزیز ترین رشتہ دار بھی چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔شیخ سعدی مثالوں میں بڑی اچھی باتیں کہنے کے عادی تھے۔انہوں نے ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک عورت تھی۔وہ اپنی بیٹی سے بڑا پیار کرتی تھی۔اُس لڑکی کا نام مہتی تھا۔ایک دفعہ اُس کی بیٹی خطرناک طور پر بیمار ہوگئی۔وہ عورت دعا کرنے لگی کہ اے خدا ! میں مرجاؤں مگر میری بیٹی نہ مرے۔اگر موت ہی آنی ہے تو اس کی بجائے مجھے آ جائے۔اُس رات اتفاقاً اُس کی گائے رستہ تڑوا کر صحن میں آ گئی۔وہاں چھان بورے والا ایک مٹکا پڑا ہوا تھا۔اُس نے اپنا سر اُس میں ڈال دیا تا کہ چھان بوران کھائے۔جاتی دفعہ تو اُس کا سر آسانی سے مکے میں چلا گیا کیونکہ اُسے زمین کا سہارا مل گیا۔مگر آتی دفعہ سر باہر نہ نکلا کیونکہ آتی دفعہ کوئی پکڑنے والی چیز نہیں تھی۔وہ گائے گھبرائی اور صحن میں ادھر اُدھر دوڑنے لگی۔وہ اپنے مصلی پر بیٹھی ہوئی دعا کر رہی تھی کہ یا اللہ! مجھے موت آ جائے میری بیٹی کو نہ آئے کہ اچانک اُس نے گائے کو دیکھا اور سمجھا کہ یہ عزرائیل ہے جو اُس کی جان نکالنے آیا ہے۔وہ اُسے دیکھ کر جھٹ کہنے لگی ملک الموت ! من نہ بہتی ام - مَلَكُ الموت تو نے شاید میری دعا سن لی الی ہے کہ میں مرجاؤں میری بیٹی نہ مرے۔اس لیے تو میرے پاس آیا ہے کہ میری جان نکال لے۔میں تجھے بتانا چاہتی ہوں کہ من نہ مبتی ام۔میں مبتی نہیں ہوں۔من یکے پیر زال محنتی ام۔میں تو ایک بڑھیا مزدور عورت ہوں۔تو میری جان نہ نکال ،مہتی کی جان نکال۔وہ سامنے چار پائی پر پڑی ہوئی ہے۔گویا یا تو وہ عورت یہ دعا کر رہی تھی کہ لڑکی کی موت مجھے آ جائے اور یا پھر یہ صورت ہوئی کہ گائے جو مٹکا سر پر اُٹھائے ادھر اُدھر بھاگ رہی تھی جب اُس نے اُسے ملک الموت سمجھا تو اس نے کہا میں تو مہتی نہیں ہوں میں تو ایک مزدور بڑھیا عورت ہوں۔اور بیٹی کی طرف اشارہ کر کے کہا مبتنی وہ پڑی۔