خطبات محمود (جلد 39) — Page 47
$1958 47 خطبات محمود جلد نمبر 39 ادا کرے۔گویا خالی اٹکل پچو طور پر کام نہ کرنا بلکہ ہر کام کی جو شرائط مقرر ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرنا اور ہر پہلو کے لحاظ سے اسے مکمل کرنا احسان کہلاتا ہے۔اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت یہاں کے احمدیوں کے لیے بھی اپنے اندر بہت بڑا سبق رکھتی ہے۔ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ جس زمین پر وہ اس وقت آباد ہیں یہ سلسلہ کی زمین ہے اس لیے ان کو ایسی محنت سے کام کرنا چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں اور وہ انہیں یہ نہ کہہ سکے کہ انہوں نے اپنے فرائض کو ادا نہیں کیا۔بلکہ اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْاوَ الَّذِينَ هُمْ محْسِنُونَ کے مطابق پورا تقوی ان کے مد نظر ہو اور وہ زیادہ سے زیادہ آمد پیدا کریں تا کہ اسے اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لیے خرچ کیا جا سکے۔پھر تقوی کے ذکر کے بعد فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ هُمْ مُحْسِنُونَ اور احسان کے معنے اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا کرنے کے ہیں۔اس لحاظ سے وقت پر ہل چلانا اور وقت پر فصلوں کو پانی دینا بھی احسان میں شامل ہے۔پس ہر احمدی زمیندار کا فرض ہے کہ وہ وقت پر بیج ڈالے، وقت پر گوڈی کرے، وقت پر پانی کی نگرانی کرے اور وقت پر کٹائی کرے۔یہ ساری چیزیں احسان میں شامل ہیں۔اگر جماعت کے لوگ ایسا کرنے لگ جائیں تو یہاں کی پیدا وار اتنی بڑھ سکتی ہے کہ ہم آسانی کے ساتھ کئی مساجد غیر ممالک میں بنا سکتے ہیں۔محمد آباد اور بشیر آباد کی زمین ملا کر غالباً دس ہزارایکٹر ہوگی۔اور ہالینڈ میں تین ہزار روپیہ فی ایکٹر ، جاپان میں چھ ہزار روپیہ فی ایکٹر اور اٹلی میں چودہ سور و پیہ فی ایکٹر آمد حاصل کی جاتی ہے۔اگر چودہ سو روپیہ فی ایکٹر ہی آمد مد نظر رکھی جائے تو دس ہزا را یکڑ سے ایک کروڑ چالیس لاکھ روپیہ آمد ہوسکتی ہے۔اور اگر تین ہزار آمد مد نظر رکھیں تو تین کروڑ روپیہ بن جاتا ہے۔اور اگر ہماری تین کروڑ روپیہ آمد ہو جائے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ سارے یورپ اور امریکہ میں تبلیغ کے لحاظ سے کتنا تہلکہ مچ سکتا ہے اور آپ لوگوں کی تھوڑی سی محنت سے تبلیغ کتنی آسان ہو جاتی ہے۔کل میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر مختلف اسٹیٹیں اپنی آمد بڑھانے کی کوشش کریں تو ان کی آمدنوں کو بیرونی ممالک کی مساجد کے لیے وقف کر دیا جائے گا اور انہی کے نام پر ان ملکوں میں مساجد بنادی جائیں گی۔مثلاً لکھ دیا جائے گا کہ یہ لطیف نگر کی بنائی ہوئی مسجد ہے، یہ نو رنگر کی بنائی ہوئی مسجد ہے، یہ محمد آباد کی بنائی ہوئی مسجد ہے۔اس طرح ہر اسٹیسٹ کی آمد سے اس کے نام پر مسجد بنادی جائے