خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 33

خطبات محمود جلد نمبر 39 33 33 $1958 سلغ دوسوستر ہیں۔اب گجا دوسوستر مبلغ اور گجا اٹھاون ہزار مبلغ۔اور ابھی یہ صرف رومن کیتھولکی پادریوں کی تعداد ہے۔اگر پروٹسٹنٹ فرقہ کے پادریوں کو ملا لیا جائے تو ایک لاکھ سے بھی زیادہ ان کی کے مبلغوں کی تعداد بن جاتی ہے۔قرآن کریم نے ایک جگہ بتایا ہے کہ اگر مسلمانوں میں سچا ایمان پایا جائے تو ایک مومن دس کفار کا مقابلہ کر سکتا ہے۔6 اس کے معنے یہ ہیں اگر اُن کے دو ہزار سات سو مبلغ ہوں تب تو انسانی طاقت کے لحاظ سے ہماری فتح کا امکان ہے لیکن ہمارے دوسوستر مبلغوں کے مقابلہ میں اُن کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ مبلغ ہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارے ایک مبلغ کے مقابلہ میں اُن کے تین چار سو مبلغ کام کر رہے ہیں۔پس بظاہر دنیوی نقطہ نگاہ سے ان کا مقابلہ نہیں ہوسکتا۔گو صحابہ میں ہمیں عملاً اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ انہوں نے کئی کئی گنا لشکروں کا مقابلہ کیا اور دشمن پر فتح حاصل کی۔کی جب رومیوں سے جنگ ہوئی تو حضرت خالد بن ولیڈ نے صرف ساٹھ آدمیوں کا ایک چھوٹا سا گروہ منتخب کیا اور اُن ساٹھ آدمیوں نے ساٹھ ہزار کے لشکر پر حملہ کر دیا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رومیوں پر حملہ کرنے گئے تو آپ کے ساتھ صرف دس ہزار آدمی تھے اور رومی فوج کئی لاکھ تھی مگر خدا تعالیٰ نے اُن پر ایسا رعب ڈالا کہ وہ ڈر کر پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ نہ کیا۔دراصل جرہم قبیلہ کی شہہ پر رومی مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔یہ قبیلہ اصل میں عرب تھا مگر رومی اثر کے نیچے عیسائی ہو گیا تھا۔پہلے تو انہوں نے قیصر کو انگیخت کی اور اُسے حملہ کے لیے اکسایا مگر جب ی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو وہ ڈر کر پیچھے ہٹ گئے اور جب وہ پیچھے ہے تو رومی فوج بھی ڈر گئی اور اُس نے حملہ نہ کیا۔غرض صحابہ کے زمانہ میں دو دو ہزار گنا لشکر کا بھی مسلمانوں نے مقابلہ کیا ہے مگر یہ مقابلہ اُس سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ ہماری جماعت بہت قلیل ہے اور ساری دنیا میں ہم نے اسلام پھیلانا تی ہے۔پس یہ کی اس طرح پوری ہوسکتی ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد دعاؤں میں لگا رہے اور ہر شخص اس بات کا عہد کرے کہ وہ دین کے لیے کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گا اور اسلام کی اشاعت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دے گا۔میں نے اس غرض کے لیے جماعت میں وقف جدید کی تحریک کی ہے اور اس وقت تک جو اطلاع آئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین سو چوالیس دوست اپنے آپ کو وقف کر چکے ہیں جن میں سے تیرہ معلم پہلے بھیجے جاچکے ہیں اور سترہ اور واقفین کو قابل انتخاب قرار دیا جا چکا ہے جن کے متعلق مقامی جماعتوں سے رپورٹ لی جارہی ہے اور دفتر والوں نے مجھے لکھا ہے کہ ان کی رپورٹیں