خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 25

$1958 25 خطبات محمود جلد نمبر 39 وقف زیادہ ہے اور روپیہ تھوڑا ہے حالانکہ پیچھے ایک دور ایسا آیا ہے کہ خیال آتا تھا کہ وقف کی درخواستیں کم آئی ہیں اور روپیہ زیادہ آیا ہے مگر اب خدا تعالیٰ کے فضل سے وقف بڑھ گئے ہیں اور روپیہ کم ہو گیا ہے۔گویا ہماری مثال ایسی ہے جیسے ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب گوڑ یانی جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بارہ حواریوں میں شامل کیا تھا سُنایا کرتے تھے کہ ایک احمدی حافظ تھے۔انہیں تبلیغ کا بہت جوش تھا۔وہ ایک دفعہ اُس جگہ سے گزرے جہاں میں ڈاکٹر کے طور پر کام کرتا تھا اور حافظ صاحب میرے مکان پر ہی ٹھہر گئے۔کھانا تیار تھا۔میں نے چاولوں کا ایک تھال حافظ صاحب کے آگے لا کر رکھ دیا۔جب وہ کھا چکے تو میں نے کہا حاظ صاحب! اور چاول لاؤں؟ وہ کہنے لگے اگر چاول ہیں تو لے آویں۔پھر میں نے ایک اور تھال بھر کر اُن کے سامنے رکھ دیا۔انہوں نے اسے بھی ختم کر دیا۔میں نے کہا حافظ صاحب! اور چاول لاؤں؟ کہنے لگے ہیں تو لے آئیں۔میں ایک اور تھال چاولوں کا لے آیا۔حافظ صاحب جب وہ بھی کھا چکے تو میں نے کہا حافظ صاحب ! اور چاول لاؤں؟ وہ کہنے لگے نہیں تکلیف کرنے کی کیا ضرورت ہے۔میں نے کہا حافظ صاحب ! آپ کا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ وہ کہنے لگے سُنا ہے بھیرہ میں ایک مشہور طبیب حضرت مولوی نورالدین صاحب ہیں میں اُن سے اپنے ہاضمہ کا علاج کروانے جا رہا ہوں۔میں نے ہنس کر کہا حافظ صاحب ! جب آپ کی کے ہاضمہ کا علاج ہو جائے تو آپ مہربانی فرما کر واپسی کے وقت اس طرف سے نہ آئیں بلکہ کسی اور کی طرف سے جائیں۔مجھ غریب کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ ہاضمہ درست ہونے پر آپ کی مہمان نوازی کرسکوں۔جب آپ خراب ہاضمہ میں چاولوں کے چار تھال کھا گئے ہیں تو جب ہاضمہ درست ہو جائے گا تو اُس وقت کیا بنے گا ؟ اسی قسم کا ایک لطیفہ پرانے زمانہ کا بھی مشہور ہے۔کہتے ہیں کوئی شخص تھا جس کی بھوک بہت بڑھی ہوئی تھی۔کسی نے اُس کی دعوت کی اور اُس کے سامنے بہت سے نان رکھ دیئے اور خود سالن لینے کے لیے اندر گیا۔جب واپس آیا تو وہ شخص سارے نان کھا چکا تھا۔پھر وہ سالن رکھ کر نان لینے کے لیے گیا تو آ کر دیکھا کہ شور باختم ہے۔دو تین دفعہ اُس کے ساتھ یہی حال ہوا۔وہ نان لا کر رکھ جاتا اور شور بالینے جاتا تو نان ختم ہو چکے ہوتے اور شور بارکھ کر نان لینے جاتا تو شور باختم ہو چکا ہوتا۔وہی حال ہمارا ہے کہ ایک وقت روپیہ زیادہ تھا اور واقفین کم تھے اور اب روپیہ کم ہے اور واقفین زیادہ ہیں۔