خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 24

24 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 اس میں کسی طرح روک بننا وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ کے ماتحت آتا ہے۔جلسہ سالانہ کے دنوں میں غالبا لاؤڈ سپیکر کی خرابی کی وجہ سے دوستوں کو آواز پوری طرح سنائی نہیں کی دی۔بعد میں اخبار الفضل میں میرا نوٹ چھپا تو اس پر لوگوں نے اس تحریک کی طرف توجہ کی۔اس کے بعد پھر میرے دو خطبے شائع ہوئے۔تیسرا خطبہ آج ہو رہا ہے۔جوں جوں یہ خطبات شائع ہو کر جماعت کو پہنچیں گے اُمید ہے کہ دوستوں میں بیداری پیدا ہوتی چلی جائے گی۔چنانچہ جب 3 جنوری کو میں نے خطبہ پڑھا تو اُس وقت تک ایک شخص کی طرف سے بھی اس تحریک میں وقف کا وعدہ نہیں آیا تی تھا اور ایک پیسہ کی بھی آمد نہیں ہوئی تھی مگر آج کی رپورٹ یہ ہے کہ پچھتیس ہزار روپے کے وعدے آچکے ہیں اور ایک سو پینتیس اشخاص کی طرف سے وقف کی درخواستیں آچکی ہیں۔لیکن ان چھتیس ہزار کے وعدوں میں بھی کچھ غلطی ہے۔اصل میں وعدوں کی تعداد چالیس ہزار سے کچھ اوپر بنتی ہے۔بعض رپورٹیں ناقص تھیں اور بعض وعدے ابھی اس رپورٹ میں شامل نہیں کیے گئے۔ان سب وعدوں کو ملا کر میرا خیال ہے کہ شاید یہ وعدے پچاس ہزار سے بھی اوپر ہو جائیں۔پھر شروع میں یہ غلطی بھی ہوئی کہ جماعت نے یہ سمجھا کہ چھ روپیہ آخری حد ہے۔اس لیے جو شخص ایک ہزار روپیہ تک بھی اس تحریک میں دے سکتا تھا اُس نے چھ روپیہ کا وعدہ لکھوا دیا حالانکہ یہ ضروری نہیں تھا کہ اس تحریک میں صرف چھ روپیہ دے کر ہی حصہ لیا جائے بلکہ کم از کم چھ روپیہ کی رقم دے کر اس تحریک میں حصہ لیا جاسکتا تھا لیکن جماعت کے دوستوں نے اسے زیادہ سے زیادہ رقم قرار دے لیا اور اس کے مطابق وعدے لکھوانے شروع کر دیئے۔اب بعض وعدے ایسے آ رہے ہیں جن سے پتا لگتا ہے کہ جماعت کے افراد پر یہ بات واضح ہوگئی ہے اور وہ اسے سمجھ رہے ہیں۔چنانچہ اب چھ روپیہ سے زیادہ کے وعدے بھی آ رہے ہیں لیکن جب یہ بات پوری طرح واضح ہو جائے گی تو ایسے دوست بھی نکل آئیں گے جو مثلاً پانچ سو یا چھ سو روپیہ سالانہ دے دیں۔اور پھر اللہ تعالیٰ اس کو اور پھیلائے گا تو ایسے مالدار بھی نکلیں گے جوا کیلے ہی اپنی طرف سے اس تحریک میں ہزار، ڈیڑھ ہزار، دو ہزار، چار ہزار روپیہ بھی دے دیں۔اسی طرح امید ہے کہ اگر اس سال پوری کوشش کی جائے تو وعدوں کی تعداد اسی ہزار روپیہ تک پہنچ جائے گی اور اگلے سال تو امید ہے کہ یہ رقم بہت زیادہ بڑھ جائے گی لیکن اس وقت تک صرف چھتیس ہزار کی آمد ہوئی ہے اور ایک سو پینتیس افراد کی طرف سے وقف کی درخواستیں آچکی ہیں۔گویا