خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 355

$1959 355 خطبات محمود جلد نمبر 39 کہنے لگے سُبحَانَ اللہ ! یہ کیا ہی عمدہ کلام ہے۔اسی قسم کی طبیعت اس دوست کی بھی تھی۔جب ریزولیوشن پاس ہوا تو وہ دوست کہنے لگے یہ پرانے صحابی ہیں انہیں جماعت سے نہ نکالا جائے۔مگر جب میں نے کہا کہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ مجھے جو خلیفہ ہوں معزول کر دیا جائے اور انہیں جماعت میں رکھ لیا جائے تو وہ کہنے لگے اچھا! پھر انہیں جماعت سے نکال دیں۔تو یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جنہیں قادیان کے رہنے والے بھی نہیں جانتے تھے آپ کا نام دنیا کے ہر ملک میں پھیلا اور آج آپ کو ماننے والے دنیا کے کونہ کونہ میں پائے جاتے ہیں۔قادیان میں ایک سکھ میرے پاس آیا اور کہنے لگا آپ کے تایا مرزا غلام قادر صاحب تو بہت مشہور تھے اور ایک بڑے عہدہ پر فائز تھے لیکن مرزا غلام احمد صاحب غیر معروف تھے۔انہیں کوئی جانتا نہیں تھا۔میرے والد ایک دفعہ مرزا غلام مرتضی صاحب کے پاس گئے اور کہنے لگے سنا ہے آپ کا ایک اور بیٹا بھی ہے وہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا وہ تو سارا دن مسجد میں پڑا رہتا ہے اور قرآن پڑھتا رہتا ہے۔مجھے اس کا بڑا فکر ہے کہ وہ کھائے گا کہاں سے؟ تم اُس کے پاس جاؤ اور اُسے سمجھاؤ کہ دنیا کا بھی کچھ فکر کرو۔میں چاہتا ہوں کہ وہ کوئی نوکری کرلے لیکن جب بھی میں اُس کے لیے کسی نوکری کا انتظام کرتا ہوں وہ انکار کر دیتا ہے۔چنانچہ میرے والد گئے اور بڑے مرزا صاحب کی بات ان کو پہنچائی۔وہ کہنے لگے والد صاحب کو تو یو نہی فکر گی ہوئی ہے میں نے دنیا کی نوکریوں کو کیا کرنا ہے، آپ ان کے پاس جائیں اور انہیں کہہ دیں کہ میں نے جس کا نوکر ہونا تھا ہو گیا تو میں نے جس کا ہوں۔مجھے آدمیوں کی نوکریوں کی ضرورت نہیں۔اس سکھ پر اس بات کا اس قدر اثر تھا کہ جب بھی وہ آپ کا ذکر کیا کرتا تو اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگ جاتے۔ایک دفعہ وہ چھوٹی مسجد میں آیا اور میرے پاس آ کر چیچنیں مار کر رونے لگی گیا۔میں نے کہا کیا بات ہوئی؟ وہ کہنے لگا آج مجھ پر بڑا ظلم ہوا ہے۔میں آج بہشتی مقبرہ گیا تھا۔جب میں مرزا صاحب کے مزار پر جا کر سجدہ کرنے لگا تو ایک احمدی نے مجھے اس سے منع کر دیا حالانکہ اُس کا مذہب اور ہے اور میرا مذہب اور ہے۔اگر احمدی قبروں کو سجدہ نہیں کرتے تو نہ کریں لیکن میں تو سکھ ہوں اور ہم سجدہ کر لیتے ہیں۔پھر اُس نے مجھے منع کیوں کیا ؟ غرض آپ بالکل خلوت نشیں تھے اور جولوگ آپ کے واقف تھے اُن پر آپ کی عبادت اور زہد کا اتنا اثر تھا کہ وہ باوجود غیر مسلم ہونے کے