خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 274

$1958 274 خطبات محمود جلد نمبر 39 کہہ رہا تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ یہاں محلوں کے جو پریذیڈنٹ ہیں وہ اذانیں سن کر موذنوں کی اصلاح نہیں کرتے۔مؤذن کے متعلق عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اُس کی آواز اچھی ہو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ عربی بھی جانتا ہے یا نہیں۔آج صبح جس مؤذن کی آواز میں نے سنی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُس کی کی آواز اچھی تھی لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ عربی سے بھی واقفیت رکھتا ہو۔یہ محلہ جات کے صدر صاحبان کا کام ہے یا پھر علماء کا کام ہے کہ وہ محلوں میں پھر پھر کر موذنوں کی اذانیں درست کریں۔بیشک اذان کی اصل غرض نمازوں کی طرف لوگوں کو توجہ دلانا ہے لیکن توجہ تو کسی ڈھول کے ذریعہ بھی دلائی جاسکتی تھی۔اگر اس غرض کے لیے کچھ الفاظ رکھے گئے ہیں تو آخر اس کے کچھ معنے ہیں۔اگر مو زن ان الفاظ کو صیح طور پر بولے گا تو ان کے صحیح معنے بھی سمجھے جائیں گے اور اگر وہ غلط طور پر بولے گا تو ان کے معنے بھی سمجھ میں نہیں آئیں گے۔در حقیقت اذان کو عربی میں اس لیے رکھا گیا ہے کہ لوگوں کو عربی زبان سیکھنے کی طرف کچھ نہ کچھ توجہ پیدا ہوتی رہے۔اگر ڈھول بجتا تو لوگوں کو عربی زبان سیکھنے کی طرف کوئی توجہ پیدا نہ ہوتی لیکن ہماری شریعت نے اذان عربی میں رکھ دی ہے۔نماز میں بھی عربی عبارتیں رکھ دی ہیں۔اسی طرح قرآن مجید کی سورتیں اور کچھ آیات نماز میں ضروری قرار دے دی ہیں۔اس طرح یہ تدبیر کی گئی ہے کہ لوگوں کو عربی زبان سے کچھ نہ کچھ واقفیت پیدا ہو جائے اور لوگ مجبور ہوں کہ وہ عربی سیکھیں۔اس کی حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پنجاب کے ایک بڑے افسر نے ایک دفعہ یہ تحریک شروع کر دی تھی کہ نمازی پنجابی زبان میں پڑھانی چاہیے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ نماز میں کیا کہا جارہا ہے۔چنانچہ ایک عید کے موقع پرلوگوں نے اسے نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کر دیا۔پہلے تو اُس نے کہا میں مولوی نہیں، کسی مولوی کو نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کرو لیکن جب لوگوں نے مجبور کیا تو وہ کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا اللہ بڑا وڈا ہے۔پھر کہنے لگا ”ساریاں تعریفاں ہیں اللہ دیاں جیہڑ، اپالنہار ہے ساری دنیا دا۔اس طرح اُس نے ساری سورۃ فاتحہ کا پنجابی زبان میں ترجمہ کر دیا۔بعد میں لوگوں نے شور مچا دیا کہ تم نے ہماری نماز خراب کر دی ہے۔اُس نے کہا میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کسی مولوی کو نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کر دو۔اگر تم نے مجھے کھڑا کیا ہے تو میں نے تو اُسی زبان میں نماز پڑھانی تھی جسے تم سمجھتے تھے۔اگر میں سورہ فاتحہ عربی میں پڑھ دیتا تو اسے کون سمجھتا۔پھر سنا کہ وہ لندن گیا تو وہاں بھی اُس نے یہی کام کیا اور