خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 15

$1958 15 خطبات محمود جلد نمبر 39 بقامت کہتر کی مصداق ہے لیکن بقیمت بہتر ہے۔امریکہ، یورپ اور باقی ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا وہی گاڑ رہی ہے اور باقی مسلمان جن کو علماء نے اپنے سروں پر اُٹھا رکھا ہے انہوں نے بیرونی ممالک میں کسی مسجد کی ایک اینٹ بھی نہیں لگوائی۔اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یورپ میں ہماری تین مسجدیں بن چکی ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہمارا منشا ہے کہ تھوڑے عرصہ میں ہی ایک اور مسجد بھی بنا دی جائے۔ایک مسجد امریکہ میں بنانے کا میں نے آرڈر دے دیا ہے۔ایک مسجد لندن میں بنی ہے، ایک مسجد ہیگ میں بنی ہے، ایک مسجد ہیمبرگ (جرمنی) میں بنی ہے، ایک فرینکفرٹ (جرمنی) میں بن رہی ہے۔جب یہ مسجد بن گئی تو انشَاءَ اللہ ایک مسجد ہنوز ( Hanover) (جرمنی) میں بنائی جائے گی۔پھر ایک زیورچ میں بنے گی۔پھر ایک روم میں بنے گی۔پھر ایک نیپلز (Naples) میں بنے گی۔پھر ایک جنیوا میں بنے گی اور پھر ایک دیفیس (Venice) میں بنے گی اور اس طرح یہ سلسلہ ترقی کرتا چلا جائے گا۔بہر حال ہماری جماعت اس وقت بقامت کہتر “ اور ”بقیمت بہتر کی مصداق ہے جو ہر جگہ مسجد میں بنا رہی ہے۔مسلمان ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ ہم اُن کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔مولوی ظفر علی خان صاحب اب تو فوت ہو گئے اور اُن کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہے۔جب وہ زندہ تھے تو بڑی حقارت سے لکھا کرتے تھے کہ یہ لوگ تو مسلمانوں میں سو میں سے ایک بھی نہیں۔پاکستان کی ساری آبادی جس میں ہندو اور عیسائی بھی شامل ہیں آٹھ کروڑ ہے۔اگر ہندوؤں اور ان عیسائیوں کو نکال دیا جائے تو غالباً مسلمانوں کی آبادی پانچ کروڑ رہ جاتی ہے اور ہماری تعداد کا زیادہ ان سے زیادہ اندازہ دس لاکھ ہے۔ہندوستان کی آبادی بتیس کروڑ ہے۔اس کے ساتھ پاکستان کی آبادی کو ملا لیا جائے تو یہ چالیس کروڑ بن جاتی ہے اور دس لاکھ کی آبادی ان کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی۔لیکن اب اگر اللہ تعالیٰ ہمیں طاقت بخشے اور یہ نئی تحریک جو میں نے کی ہے پھیل جائے تو پھر امید ہے کہ ہماری جماعت اس ملک میں ایک نمایاں مقام پیدا کر لے گی۔میں نے جلسہ سالانہ پر اس کے متعلق تحریک کی تھی اور پھر پچھلے جمعہ کے خطبہ میں بھی اس کا ذکر کیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بیسیوں خطوط جماعت کے افراد کے آئے۔انہوں نے لکھا کہ ہم نے جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ کی تقریر کا مفہوم