خطبات محمود (جلد 39) — Page 14
14 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 بادشاہ اُن سے بہت محبت کیا کرتا تھا لیکن ایک لڑکا بہت چھوٹے قد کا تھا اور اس کی شکل بھی نہایت مکر وہ ای تھی۔اُس سے وہ سخت نفرت کیا کرتا تھا۔ایک دفعہ ایک بادشاہ جو اُس سے دشمنی رکھتا تھا اور جس کی کی طاقت بہت زیادہ تھی اُس پر حملہ آور ہوا۔جب اُس کی فوج نے اس بادشاہ کے دائیں اور بائیں بڑے کی زور سے حملہ کیا تو اس کی ساری فوج بھاگ گئی اور میدانِ جنگ میں صرف چند آدمی بادشاہ کے ساتھ رہی گئے۔جب بادشاہ نے دیکھا کہ اب دشمن مجھے بھی حملہ کر کے قید کر لے گا تو یکدم صفوں کو چیرتا ہوا ایک سوار نکلا جس نے اپنے ہاتھ میں نیزہ پکڑا ہوا تھا۔وہ پوری ہمت کے ساتھ اپنے دائیں اور بائیں نیز ہی چلاتا ہوا آ رہا تھا جس کی وجہ سے دشمن کی فوج تتر بتر ہوگئی۔پھر اُس نے بادشاہ کی بچی کچھی فوج کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن کی فوج بھاگ گئی۔وہ شخص حملہ کرتا جا تا تھا اور کہا جاتا تھا آں نہ من باشم که روز جنگ بینی پشت من آں منم کاندر میانِ خاک و خوں بینی سرے یعنی میں وہ نہیں ہوں کہ جنگ کے دن تو میری پیٹھ دیکھے بلکہ جنگ کے دن تو صرف میرا منہ یکھے گا میری پیٹھ نہیں دیکھے گا۔اور اگر کوئی شخص مجھے سے میرا کچھ حال پوچھنا چاہے تو میں اُسے یہ بتاتا ہوں کہ میں جب لڑائی میں آؤں گا تو وہ میرے سر کو خاک اور خون میں لتھڑا ہوا پائے گا یعنی میں قتل ہوتی جاؤں گا لیکن بھاگوں گا نہیں۔جب فتح ہوئی تو بادشاہ نے پہچان لیا کہ وہ اُس کا وہی بیٹا ہے جس سے وہ نفرت کیا کرتا تھا۔بادشاہ نے اُسے بلایا، اُس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا میں نے تم پر بڑا ظلم کیا ہے اور تمہاری بڑی بے قدری کی ہے۔جن کی میں قدر کیا کرتا تھا اور جن سے محبت کیا کرتا تھا وہ تو پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے لیکن تم میدان میں رہے اور میری جان کی حفاظت کرنے کے لیے آگے آئے۔اس پر اُس کی لڑکے نے کہا اے باپ! ہر چہ بقامت کہتر بقیمت بہتر جو شخص قد و قامت اور صورت کے لحاظ سے ذلیل نظر آتا تھا وہ قیمت کے لحاظ سے بہت بہتر تھا یعنی آپ تو مجھے چھوٹے قد کا آدمی سمجھ کر نفرت سے دیکھا کرتے تھے لیکن آپ کو معلوم ہو گیا کہ جو قد و قامت اور صورت میں ذلیل نظر آتا تھا قیمت کے لحاظ سے وہی بہتر تھا۔1 یہ تو ایک آدمی کا قصہ ہے لیکن ہماری جماعت بھی گو تعداد کے لحاظ سے بہت تھوڑی۔