خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 256

$ 1958 256 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہوگی کیونکہ وہ قرآن کریم کے تابع ہوگی۔بہر حال جب بھی کوئی بات قابل دریافت ہو تم یہ نہ پوچھا کرو کہ امام ابوحنیفہ کیا کہتے ہیں یا ت امام شافعی کیا کہتے ہیں تم یہ پوچھا کرو کہ قرآن کریم کیا کہتا ہے۔لیکن اگر قرآن کریم اُس کے متعلق خاموش ہو تو تمہیں سنت پر نظر ڈالنی چاہیے۔اگر کوئی سنت مل جائے تو وہ قدر مشترک ہوگی اور وہ بہر حال کسی ایک فقہ کے امام سے زیادہ قابل قبول ہوگی کیونکہ اس میں شیعہ سنی ، خارجی حنفی ، شافعی ، حنبلی اور مالکی وغیرہ سارے متفق ہوں گے اور چونکہ قدر مشترک میں سارے امام اکٹھے ہو جائیں گے اس لیے ان کی بات زیادہ ہی سمجھی جائے گی اور وہی قابل عمل قرار پائے گی۔اور جو شخص اس کو چھوڑے گا وہ گویا ایک قسم کے اجماع کو چھوڑے گا۔حقیقی اجماع تو ایک ناممکن چیز ہے۔درحقیقت سارے مسلمان سوائے قدر مشترک کے کسی ایک بات پر ا کٹھے ہوتے نظر نہیں آئے اور قدر مشترک کے خلاف کوئی جاتا ہی نہیں۔مثلاً آج کوئی کہہ دے کہ لَا اِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہے بغیر بھی انسان مسلمان ہو جاتا ہے تو سارے مسلمان کہیں گے کہ یہ شخص جھوٹ بولتا ہے کیونکہ یہ بات قد رمشترک کے خلاف ہے۔سنی بھی یہی کہتا ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہنے سے انسان مسلمان ہوتا ہے، خارجی بھی یہی کہتا ہے، حنفی بھی یہی کہتا ہے، شافعی بھی یہی کہتا ہے، مالکی بھی یہی کہتا ہے جبلی بھی کی یہی کہتا ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ اہلِ قرآن بھی یہی کہتا ہے۔گو وہ محمد کے معنے قرآن کریم کے لے لیتا نی ہے مگر کہتا ہی ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہے بغیر کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا۔گویاوہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے مُراد تو قرآن کریم لیتا ہے لیکن قدرِ مشترک میں فرق نہیں کرتا۔پس عمل کرتے وقت ہمیشہ یہ سوچا کرو کہ قرآن کریم کیا کہتا ہے، یہ نہ پوچھا کرو کہ فلاں امام کیا کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ لَمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَيكَ هُمُ الظَّلِمُونَ خدائی کتاب کے خلاف جو کوئی کام کرتا ہے وہ ظالم ہوتا ہے۔قیامت کے دن کوئی امام خدا تعالیٰ کے سامنے تمہاری طرف سے جواب نہیں دے گا تم آپ جواب دو گے کیونکہ خدا نے ایک قرآن تو اس کتاب میں رکھا ہے جو ہمارے پاس ہے اور ایک قرآن اُس نے ہمارے دماغوں میں رکھا ئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّهُ لَقُرْآنُ كَرِيمُ فِي كِتُبِ مَّكْنُون و قرآن کریم کی ایک و ورژن (VERSION) ایسی ہے جو مخفی طور پر فطرت انسانی میں رکھ دی گئی ہے۔گویا ایک قرآن وہ ہانی