خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 255

$1958 255 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہے حالانکہ کنز “ آپ کی وفات کے کئی سو سال کے بعد لکھی گئی ہے۔تو حقیقت یہی ہے کہ بعد میں آنے والے علماء چاہے کتنے بڑے ہوں سب محمد رسول اللہ کے تابع ہیں۔آج ایک عورت ہمارے ہاں آئی۔وہ قادیان کی پرانی عورت ہے۔اُس کے دماغ میں کچھ نقص ہے۔کہنے لگی میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور آپ نے فرمایا ہے کہ اگر تم چھ مہینے متواتر روزے رکھو تو خلیفۃ المسیح کو صحت ہو جائے گی۔مگر میں نے جن علماء سے پوچھا انہوں نے یہی کہا ہے کہ چھ ماہ کے متواتر روزے رکھنا ناجائز ہے۔اُس نے کہا میاں بشیر احمد صاحب نے کہا ہے کہ تو جمعرات اور پیر کے روزے رکھ لیا کر لیکن اس کے بعد میں نے پھر خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے ہیں اور انہوں نے مجھ سے کہا میں نے تو کہا تھا کہ تو چھ ماہ کے متواتر روزے رکھ تو متواتر روزے کیوں نہیں رکھتی ؟ میں نے کہا تیری خواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے الہاموں کے متعلق یہ فرماتے ہیں کہ اگر میرا کوئی الہام قرآن اور سنت کے خلاف ہو تو میں اُسے بلغم کی طرح پھینک دوں گا۔7 جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی وحی کو قرآن کریم اور سنت کے اتنا مطابق کرتے ہیں تو ہمیں بھی اپنی خواب آپ کے احکام کے مطابق رکھنی پڑے گی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے متواتر اور لمبے عرصہ کے روزوں سے منع کیا ہے 8 تو اگر تمہیں کوئی خواب اس حکم کے خلاف آئی ہے تو وہ شیطانی سمجھی جائے گی خدائی نہیں سمجھی جائے گی۔اگر خدائی خواب ہوتی تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتی آپ کی تردید نہ کرتی۔پس جو خواب ایسی ہو جو قرآن کریم یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فتویٰ اور سنت کے خلاف ہو وہ بہر حال رڈ کرنے کے قابل سمجھی جائے گی کیونکہ نہ تو قرآن کریم کے خلاف کوئی خواب بچی ہو سکتی ہے اور نہ سنت کے خلاف کوئی خواب سچی ہو سکتی ہے اور نہ صحیح حدیث کے خلاف کوئی خواب سچی ہوسکتی ہے۔حدیث کے متعلق زیادہ سے زیادہ کوئی کہہ دے گا مشتبہ ہے لیکن قرآن کریم اور سنت کو کیا کہے گا اور پھر عقل کو کہاں لے جاوے گا۔اکثر عقل بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے ساتھ مل جاتی ہے تو پھر حدیث کو دو طاقتیں مل جاتی ہیں۔ایک تو احتمال ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہو اور دوسرے عقلِ سلیم نے کہہ دیا کہ وہ قول صحیح ہے ایسی صورت میں بہر حال وہ حدیث قابل عمل