خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 239

239 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 انتظام کر دیا گیا ہے اور لوٹے بھی رکھوا دیئے گئے ہیں تا کہ وضو کر سکیں۔اس پر نواب صاحب بڑ۔غصہ سے اُٹھے اور ناراض ہو کر چلے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد نواب ذوالفقار علی خاں صاحب جو ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خاں صاحب کے چھوٹے بھائی تھے اُن کا مجھے فون آیا کہ نواب صاحب آف گنج پورہ کی آپ نے کیوں بنک کر دی، وہ تو بڑے ناراض ہیں۔میں نے کہا کہ میں نے تو کوئی ہتک نہیں کی۔میں نے تو اُن کی سہولت کے لیے الگ جائے نماز بچھوادی تھی اور پانی کا بھی انتظام کرا دیا تھا تا کہ وہ علیحدہ نماز پڑھ لیں۔آخر انہوں نے ہمارے پیچھے تو نماز نہیں پڑھنی تھی۔وہ کہنے لگے کہ انہوں نے آپ کی بات کو سمجھا نہیں۔وہ بڑے غصہ سے اُٹھ کر آگئے اور کہنے لگے کہ انہوں نے ہم کو کافر قراردے دیا ہے اور کہا ہے کہ تم الگ نماز پڑھو۔غرض ہم تو خود کہتے ہیں کہ جو لوگ اعتقادات میں ہم سے اختلاف رکھتے ہیں وہ علیحدہ نماز پڑھیں۔آخر نماز بندے اور خدا تعالیٰ کے تعلق کی ایک علامت ہے۔اگر وہ اپنے عقائد میں بچے ہیں تو اُن کی نماز اسی صورت میں قبول ہو سکتی ہے جب وہ ہم سے علیحدہ نماز پڑھیں۔اور اگر وہ ہم کو جھوٹا سمجھتے ہیں تو اپنے پیچھے نماز پڑھوا کر ہم اُن کی نماز کو کیوں خراب کریں۔اگر ایک شخص ہم کو کافر سمجھتا ہے اور پھر ہم اُسے کہتے ہیں کہ تو ہمارے پیچھے نماز پڑھ تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم اسے بے دین بناتے ہیں۔اگر وہ خود اپنے شوق سے ہمارے پیچھے نماز پڑھنا چاہے تو ہم اسے نہیں روکتے لیکن جو شخص ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھنا چاہے اُسے ہم اپنے پیچھے نماز پڑھنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔پس جو لوگ باہر سے آئیں اُن کو نصیحت کرتے رہیں کہ وہ مسجدوں میں بیٹھیں، ذکر الہی کریں، دُعا اور استغفار سے کام لیں اور جب نماز کا وقت آئے تو بیشک علیحدہ نماز پڑھ لیں ، ہمارے امام کے پیچھے نہ پڑھیں۔مگر بہر حال پڑھیں ضرور کیونکہ نماز پڑھنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور اس کی حکم کی بجا آوری جس طرح ہمارے لیے ضروری ہے اُسی طرح اُن کے لیے بھی ضروری ہے۔غرض جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ جلسہ سالانہ پر آنے کی کوشش کریں اور پھر یہاں آ کر دُعاؤں اور ذکر الہی اور عبادت میں اپنا وقت گزاریں اور جن غیر احمدی دوستوں کو اپنے ہمراہ لائیں اُن کی بھی نگرانی رکھیں تا کہ وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں اور دُعا اور استغفار میں مشغول رہیں۔