خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 238

$1958 238 خطبات محمود جلد نمبر 39 میں نے سمجھا کہ شاید وہ لیکچر کی تعریف کرنا چاہتا ہے مگر جب اسے صدر نے اجازت دی تو وہ کھڑے ہو کر کہنے لگا کہ مرزا صاحب نے جو بات کہی ہے وہ منافقت سے کہی ہے ورنہ اگر وہ اپنی بات میں بچے کے ہیں تو چلیں اور ہمارے امام کے پیچھے نماز پڑھیں۔اُس وقت اُس جلسہ کا صدر ایک غیر احمدی تھا۔وہ ہماری جماعت کا شدید مخالف ہے اور اُس نے ہمارے خلاف بعض ٹریکٹ بھی لکھے ہیں مگر جب اس نے یہ بات کہی تو وہ فوراً کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا مجھے پتا نہیں تھا کہ اس شخص نے اعتراض کر کے فتنہ پھیلانا ہے ورنہ میں اسے کبھی بولنے کی اجازت نہ دیتا۔مرزا صاحب نے تو اپنے پیچھے نماز پڑھنے کا نام بھی نہیں لیا۔انہوں نے تو یہ کہا ہے کہ تم نمازیں پڑھو۔اور یہ بھی نہیں کہا کہ ہماری مسجد میں پڑھو بلکہ کہا ہے کہ تم اپنی اپنی مسجدوں میں نمازیں پڑھو اور یہ بھی نہیں کہا کہ ہمارے امام کے پیچھے پڑھو بلکہ انہوں نے کہا ہے کہ اگر تم شیعہ ہو تو شیعہ امام کے پیچھے پڑھو، اگر خارجی ہو تو خارجی امام کے پیچھے پڑھو، اگر خفی کی یا شافعی ہو تو حنفی یا شافعی امام کے پیچھے پڑھو۔اور جب انہوں نے اپنی جماعت کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کو اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلائی ہے اور کہا ہے کہ تم اپنے اپنے طریق پر جس طرح خدا تعالیٰ کی عبادت کرنا پسند کرتے ہو اس طرح عبادت کرو تو پھر اعتراض کرنے کی کیا وجہ ہے۔اگر تو وہ یہ کہتے کہ میرے پیچھے نماز پڑھو یا ہماری جماعت کے امام کے پیچھے نماز پڑھو تب تو اعتراض ہوسکتا تھا لیکن انہوں نے تو اشارہ بھی کوئی بات ایسی نہیں کہی۔پس یہ اعتراض محض فتنہ اور فساد پھیلانے کی کوشش کرنا ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اُن ہی کے ایک آدمی کے ذریعہ مخالف کو جواب دے دیا اور وہ شرمندہ ہو کر بیٹھ گیا۔بہر حال ہمارا طریق یہی ہے کہ ہم ہر مذہب اور عقیدہ رکھنے والے کو کہتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے طریق کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے۔ہم کسی کو مجبور نہیں کرتے کہ وہ ہمارے پیچھے نماز پڑھے۔مجھے یاد ہے جب شملہ میں پہلی مرتبہ کشمیر کمیٹی کا جلسہ ہوا تو نواب صاحب آف گنج پورہ بھی جو ہمارے رشتہ دار تھے اس میں شامل ہوئے۔میں نے یہ دیکھ کر کہ وہ احمدیت کے مخالف ہیں اور بعض کی دوسرے غیر احمدی معززین بھی شامل ہیں میں نے درد صاحب کو کہا کہ ایک الگ کمرہ میں نماز کے لیے دریاں بچھا دیں اور پانی کا بھی انتظام کر دیں۔جب کمیٹی ہو چکی تو میں نے دوستوں سے کہا کہ اب چونکہ نماز کا وقت ہے اس لیے ہم تو یہیں نماز پڑھیں گے لیکن آپ لوگوں کے لیے ایک الگ کمرہ میں