خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 234

$1958 234 خطبات محمود جلد نمبر 39 کے بعد میں نے پھر پوچھا کہ بتائیے آپ کا کیا مذہب ہے؟ کہنے لگا میری عقل کیوں مارلی ہے؟ میں سوچ تو لوں۔آخر اسی طرح پندرہ بیس منٹ گزر گئے اور پھر کہنے لگا میرا مذ ہب علیہ علیہ ہے۔میں دل میں سمجھ گیا کہ یہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کہنا چاہتا ہے مگر میں نے کہا میاں عبدالوہاب ! یہ علیہ علیہ علیہ کیا ہے؟ اس طرح تو لعنتہ اللہ علیہ بھی ہوتا ہے۔کہنے لگا سوچ تو لینے دو گھبراتے کیوں ہو؟ میں نے کہا سوچ لو۔آخر کچھ دیر کے بعد کہنے لگا علیہ رحمہ اللہ۔میں پھر ہنسا تو کہنے لگا مجھے ایک کارڈ لے دو میں اپنے گاؤں کے ملاں سے پوچھ کر تمہیں لکھوا دوں گا کہ میرا کیا مذہب ہے؟ میں نے کہا مجھے ملاں کے مذہب کی ضرورت نہیں مجھے تو آپ کے مذہب کی ضرورت ہے۔کہنے لگا میر امذ ہب اعظم علیہ ہے۔اُس کی مذہب سے واقفیت تھی مگر وہ حج کے لیے چلا گیا۔حج کے بعد کہنے لگا مجھے بیٹوں نے کہا تھا کہ تم نے مدینے ضرور جانا ہے۔اس لیے اب میں مدینہ جاؤں گا۔چنانچہ پھر وہ مدینہ چلا گیا۔ہمیں معلوم نہیں کہ پھر اُس کا کیا حال ہوا۔غرض اللہ تعالیٰ نے حج بیت اللہ کا قیام ذکر الہی کے لیے کیا تھا مگر مسلمانوں نے اس سے وہ فائدہ اُٹھانا ترک کر دیا جس کے لیے یہ عبادت مقرر کی گئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اس بے رغبتی اور عدم توجہی کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ قادیان میں جلسہ سالانہ کی بنیاد رکھی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حج کے لیے لوگوں کو ہمیشہ مکہ مکرمہ میں ہی جانا پڑے گا مگر وعظ ونصیحت کے لیے اللہ تعالیٰ نے قادیان کو مرکز مقرر فرمایا۔اب اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت ہم قادیان سے ربوہ آ گئے ہیں جہاں ہر سال ہمارا سالانہ جلسہ منعقد ہوتا ہے جس میں شامل ہونے کے لیے دور دور سے لوگ آتے ہیں، وعظ و نصیحت کی باتیں سنتے ہیں، تہجد میں پڑھتے ہیں، ذکر الہی اور دُعاؤں میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں اور نو جوان بھی جہاں مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں وہاں اپنے اوقات کو زیادہ تر ذکر الہی میں بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور اس جلسہ کی بڑی غرض بھی یہی ہے کہ جولوگ اس میں شامل ہونے کے لیے ربوہ آئیں وہ دن کے اوقات میں علماء سلسلہ کی تقریریں سنیں اور رات کو مساجد میں تہجد میں پڑھیں ، ذکر الہی کریں، قرآن کریم کی تلاوت کریں اور دُعاؤں میں اپنے اوقات بسر کریں تا کہ اگر سارا سال انہوں نے تہجد نہیں پڑھی تو کم از کم ان تین دنوں میں ہی وہ تہجد اور نوافل پڑھ کر اور ذکر الہی اور دعاؤں میں حصہ لے کر اپنے دلوں کو منور کر لیں۔