خطبات محمود (جلد 39) — Page 233
$1958 233 خطبات محمود جلد نمبر 39 گندے عشقیہ اشعار پڑھتے دیکھا تھا حالانکہ وہ ذکر الہی اور دُعاؤں کا وقت تھا۔اگر مکہ مکرمہ میں جا کر بھی آپ نے ذکر الہی نہیں کرنا تھا تو حج پر آنے سے آپ کی غرض کیا تھی؟ وہ کہنے لگا مجھے تو حج سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔بات دراصل یہ ہے کہ میرا باپ تاجر ہے اور ہم نے ایک دکان کھولی ہوئی ہے۔ہماری یہ دکان پہلے خوب چلتی تھی اور سوات تک سے لوگ ہم سے سودا خرید نے آتے تھے۔مگر پچھلے سال ہمارے ساتھ والا دکاندار حج کر آیا اور اُس نے اپنے نام کے ساتھ حاجی لکھوا کر دکان پر بورڈ لٹکا دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری بکری کم ہوگئی اور اُس کی دکان خوب چلنے لگی۔میرے باپ نے مجھے کہا کہ تو بھی حج کر آتا کہ ہم بھی حاجی کا بور ڈلگوا سکیں اور لوگ یہاں دکان پر بھی کثرت سے آنے لگیں۔چنانچہ میں اپنے باپ کے کہنے پر حج کرنے کے لیے آ گیا ورنہ مجھے کیا پتا کہ حج کیا ہوتا ہے اور اس کے کی آداب کیا ہیں۔غرض حج پر تو لوگ جاتے ہیں مگر ان میں اس قسم کے بھی لوگ ہوتے ہیں جنہیں یہ پتا ہی نہیں ہوتا کہ حج کیا چیز ہے اور یہ عبادت کیوں قائم کی گئی ہے۔ہمارے ساتھ ایک اور بوڑھا شخص بھی تھا جس کا نام عبدالوہاب تھا اور غیر احمدی تھا۔میں تو مصر کے راستہ سے حج کے لیے گیا تھا مگر ہمارے نانا جان بمبئی کے راستہ سے حج کے لیے آئے تھے۔انہیں عبدالوہاب بمبئی میں مل گیا اور چونکہ وہ غریب شخص تھا انہیں رحم آ گیا اور اُسے بھی انہوں نے اپنے ساتھ شامل کر لیا۔مکہ مکرمہ تک وہ ہمارے ساتھ ہی رہا۔اس سفر میں ہم سیٹھ ابوبکر یوسف جمالی صاحب کے ہاں ہی ٹھہرے تھے اور پھر مکہ مکرمہ میں بھی انہوں نے ہی اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ تمام انتظامات کروائے۔عبد الوہاب بھی ان تمام انتظامات میں ہمارے ساتھ شریک رہا مگر جب حج ختم ہوا تو مکہ میں سخت ہیضہ پھوٹ پڑا۔نانا جان کی طبیعت کمزور تھی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فوراً واپس چلنا چاہیے مگر عبدالوہاب نے کہا کہ میں مدینہ جاؤں گا کیونکہ میرے بیٹوں نے مجھے کہا ہے کہ جب تک تو مدینے نہیں جائے گا تیرا حج مکمل نہیں ہوگا۔ہم نے اسے منع بھی کیا کہ نہ جاؤ کہیں راستہ میں ہی مرجاؤ گے مگر وہ نہ مانا اور چلا گیا۔معلوم نہیں پھر اُس کا کیا حال ہوا۔مگر اس شخص کی مذہب سے واقفیت کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ ہم نے اُس سے پوچھا کہ میاں ! تمہارا مذہب کیا ہے؟ وہ کچھ دیر خاموش رہا۔ہم نے کہا بتاتے کیوں نہیں؟ کہنے لگا گھبراتے کیوں ہو؟ سوچنے تو دو تم تو دوسرے کو سوال کر کے پریشان کی کر دیتے ہو۔وہ بیچارہ کوئی ستر اسی سال کا تھا اور میری عمر اس وقت کوئی چوبیس سال کی تھی۔تھوڑی دیر