خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 161

161 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 میں لکھا گیا ہے۔یہ ٹریکٹ اصل میں لاہور کے عیسائیوں نے لکھا تھا جسے یہاں کے پادریوں نے مری میں تقسیم کیا۔یہ ٹریکٹ نہایت گندے اور جھوٹے اعتراضات سے پر تھا اور اس میں کہا گیا تھا کہ قرآن کریم تو تورات اور انجیل کی تائید کرتا ہے لیکن مسلمان کہتے ہیں کہ تورات اور انجیل دونوں محترف و مبدل ہیں حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔مسلمان ایسا نہیں کہتے بلکہ صرف احمدی اس بات کا دعوی کرتے ہیں ورنہ مسلمانوں کی کتابیں تو اس بات سے بھری پڑی ہیں کہ تو رات اور انجیل غیر محترف ہیں۔یہاں تک کہ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی جیسے بڑے آدمی نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی معنوی تحریف تو ثابت ہے لیکن لفظی تحریف ثابت نہیں۔چونکہ اُس زمانہ میں عیسائیت کے خلاف مسلمانوں کی تحقیق ابھی مکمل نہیں تھی اور انگریزی اور عبرانی لٹریچر ان کی نظر سے نہیں گزرا تھا اس لیے انہوں نے لکھ دیا کہ قرآن کریم میں جو يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِه 2 آتا ہے اس سے یہ مُراد نہیں کہ وہ لفظی تحریف کرتے تھے بلکہ اس جگہ تحریف سے معنوی تحریف مُراد ہے۔پس عام مسلمان تو رات اور انجیل کو محرف و مبدل نہیں کہتے بلکہ صرف ہماری جماعت یہ دعوی کرتی ہے کہ عہد نامہ قدیم اور جدید دونوں محترف و مبدل ہیں۔اس زمانہ میں جب انگریزی اور عبرانی لٹریچر شائع ہوا اور احمد یہ جماعت نے اس کا مطالعہ کیا تو اسے معلوم ہوا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے تو رات اور انجیل میں بڑی بھاری تحریف کی ہے بلکہ بڑے بڑے محقق عیسائیوں اور مشہور پادریوں نے اپنی کتابوں میں خود تسلیم کیا ہے کہ بائبل یقینی طور پر محرف ومبدل ہے اور اس میں کئی قسم کی تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔پھر اپنے طور پر بھی جب جماعت احمدیہ نے تحقیق کی تو اسے اس تحریف کے کئی ثبوت مل گئے بلکہ جب عیسائیوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انجیل کے بعض حوالہ جات کے رو سے اعتراضات کیے تو عیسائیوں نے ان آیتوں کو ہی انجیل میں سے اُڑا دیا یا اُن میں ایسی تبدیلی کر دی کہ جس کی وجہ سے ان پر اعتراض نہ ہو سکے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں پر ایک اعتراض یہ کیا کہ انجیل سے ثابت ہے کہ یروشلم میں ایک تالاب تھا جس کا پانی خدا تعالیٰ کا ایک فرشتہ آسمان سے اتر کر ہلا دیا کرتا تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ جو کوئی بیمار اُس حوض کے پانی سے غسل کر لیتا تھا وہ اچھا ہو جاتا تھا۔آپ نے لکھا کہ معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح جو بیماروں کو اچھا کیا کرتے تھے تو وہ اسی تالاب کے پانی کا اثر تھا۔آپ پانی لے کر بیماروں پر چھڑک دیتے ہوں