خطبات محمود (جلد 39) — Page 136
$1958 136 خطبات محمود جلد نمبر 39 نظیر دوسرے مذاہب میں کہیں نظر نہیں آ سکتی۔بائیبل کو دیکھو تو اُس میں لکھا ہے کہ حضرت ہارون نے حضرت موسی کی بدگوئی کی اور اُن پر الزام لگایا۔13 پس وہ تو نبیوں کو بھی گندہ بتاتی ہے مگر یہاں ایک کا فر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ یکدم اسے کھینچ کر اپنے پاس بٹھا لیتا اور اپنے قرب میں جگہ دے دیتا ہے۔اسی طرح انجیل میں حضرت مسیح کے متعلق لکھا ہے کہ گرفتاری سے ایک روز قبل جبکہ وہ تمام شاگردوں کے ساتھ مل کر کھانا کھا رہے تھے حضرت مسیح نے کہا کہ ”میں تم سے بچ کہتا ہوں کہ تم میں سے ایک مجھے پکڑوائے گا۔اس پر انہوں نے پوچھا اے استاد! وہ کونسا خبیث انسان ہے جو تجھے گرفتار کروائے گا؟ اُس وقت وہی شخص جس نے پکڑوانا تھا اُس کا ہاتھ کھانا کھاتے ہوئے مسیح کے ہاتھ سے ٹکرایا اور آپ نے کہا کہ وہی جس کا ہاتھ میرے ہاتھ کو لگ رہا ہے مجھے پکڑوائے گا۔14 چنانچہ ایسا ہی ہوا۔تھوڑی دیر کے بعد اس شخص نے یہودیوں سے صرف تمیں درم یعنی اڑھائی روپے لے کر حضرت مسیح کو پکڑوا دیا۔15 اس وقت پطرس جو آپ کا بہت محبوب شاگر د تھا اور حضرت مسیح کا خلیفہ اول کہلاتا ہے کہنے لگا کہ اور لوگ اگر ٹھوکر کھا جائیں تو یہ ممکن ہے لیکن میں کبھی ٹھو کر نہیں کھا سکتا۔حضرت مسیح نے جب یہ بات سنی تو فرمایا کہ میں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ اس رات مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تو تین بار میرا انکار کرے گا“۔16 چنانچہ جب حضرت مسیح کوگرفتار کر لیا گیا تو پطرس بھی آپ کے پیچھے پیچھے چلاتا کہ وہ دیکھے کہ حکومت آپ سے کیا معاملہ کرتی ہے۔وہ وہاں صحن میں بیٹھا تھا کہ ایک لونڈی اُس کے پاس آئی اور کی اُس نے کہا کہ تو بھی مسیح کے ساتھیوں میں سے معلوم ہوتا ہے۔اس پر پطرس ڈر گیا اور اُس نے کہا کہ میں تو اس کا ساتھی نہیں۔پھر وہ ڈیوڑھی میں داخل ہوا تو ایک دوسری لونڈی یہودیوں سے کہنے لگی کہ یہ بھی یسوع ناصری کے ساتھ تھا۔اس پر اُس نے قسم کھا کر انکار کیا اور کہا کہ میں تو اس آدمی کو جانتا تک نہیں۔پھر تھوڑی دیر کے بعد چند اور آدمیوں نے کہا کہ تو بھی اس شخص کے ساتھیوں میں سے ہے کیونکہ تیری بولی سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔اس پر وہ لعنت کرنے اور قسم کھانے لگا کہ میں اس آدمی کی کو نہیں جانتا۔17 اور جب اس نے تیسری بار انکار کیا اور مسیح پر لعنت ڈالی تو اُس وقت مُرغ نے