خطبات محمود (جلد 39) — Page 106
106 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 لفظ بلفظ پورے ہوئے۔اب بتاؤ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں ؟ مشرکین مکہ کی خوش قسمتی تھی کہ انہوں نے حضرت یوسف کا واقعہ کہیں سے سنا ہوا تھا۔انہوں نے کہا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم کیا کہیں۔جو سلوک یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا وہی سلوک آپ ہم۔چنانچہ آپ نے فرمایا لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ - 12- آج تم پر کوئی گرفت نہیں کی جاتی۔جاؤ میں نے تم سب کو معاف کر دیا ہے۔چنانچہ مکہ والے خوش خوش اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور مسلمانوں کی کی تلوار میں اپنے میانوں کے اندر چلی گئیں۔وہ تو چاہتے تھے کہ آج مشرکین مکہ کو تلواروں سے ریزہ ریزہ کر دیں۔آخر وہ واقعات جو اُن کے سامنے گزرے تھے اُن کی آنکھوں کے آگے پھر رہے تھے۔ایک دفعہ آپ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ کسی نے آپ کی پیٹھ پر اونٹ کی اوجھڑی لا کر رکھ دی۔وہ کافی بوجھل تھی۔اُس کے بوجھ کی وجہ سے اُس وقت تک آپ اپنا سر نہ اٹھا سکے جب تک کہ حضرت فاطمہ نے جوا بھی چھوٹی عمر کی تھیں دوڑ کر آپ سے اُس اوجھڑی کو نہ ہٹایا۔13 اسی طرح ایک دفعہ آپ عبادت کر رہے تھے کہ لوگوں نے آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر کھینچنا شروع کیا۔یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔اتنے میں حضرت ابوبکر وہاں آگئے اور انہوں نے آپ کو چھڑایا اور کہا اے لوگو! کیا تم ایک شخص کو صرف اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے خدا میرا آقا ہے۔آخر یہ تم سے کچھ مانگتا تو نہیں۔صرف یہ کہتا ہے کہ خدا ایک ہے ، اس کی عبادت کر و مگر تم اسے مارنے لگ جاتے ہو۔14 یہ ان لوگوں کی حالت تھی اور تم سمجھ سکتے ہو کہ جب ان دکھی مسلمانوں کو خدا تعالیٰ نے مشرکین مکہ پر غلبہ عطا کر دیا تو ان کے دلوں کی کیا حالت ہوگی مگر اس کے باوجود جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کو معاف کر دیا تو انہوں نے بھی انہیں معاف کر دیا۔حضرت ابو بکر کے بیٹے عبدالرحمان جنگ بدر کے بعد ایمان لائے تھے۔جنگ بدر کے بعد انہوں نے ایک دن حضرت ابوبکر کو سنایا کہ آپ ایک دفعہ زور سے حملہ کرتے ہوئے ہمارے لشکر تک پہنچ گئے تھے اور میں ایک پتھر کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔تلوار میرے ہاتھ میں تھی اور میں اگر چاہتا تو آپ پر حملہ کر سکتا تھا لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ آپ میرے باپ ہیں اس لیے میں نے اپنا ارادہ فتح کر دیا۔حضرت ابو بکر نے فرمایا تیری قسمت اچھی تھی کہ تو مجھے نظر نہ آیا ور نہ خدا کی قسم ! اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو میں تیری بوٹیاں اُڑا دیتا اور