خطبات محمود (جلد 39) — Page 105
105 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 سمیت گودا کرتے تھے۔چنانچہ اُن کی پیٹھ کا رنگ گرگٹ کی پیٹھ کا سا ہو گیا تھا اور وہ بالعموم اپنی پیٹھ دوسرے لوگوں کو دکھایا کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ آج بلال کا دل انتقام کی طرف بار بار مائل ہوتا ہو گا اس لیے اُس کا انتقام لینا بھی ضروری ہے لیکن میرا انتقام شاندار ہونا چاہیے۔میری شان نبوت یہ ہے کہ میں سب کو معاف کر دوں لیکن بلال خیال کرے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھائیوں کو معاف کر دیا اور میرا انتقام یونہی رہا۔اس حکمت کے پیش نظر آپ نے ایک جھنڈا بنا کر آپ کے ایک بھائی کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا جو شخص اس جھنڈے کی کے نیچے کھڑا ہو گا اُسے بھی امن دیا جائے گا اور بلال کو کہا کہ تم ساتھ ساتھ یہ اعلان کرتے جاؤ تا وہ سمجھ لیں کہ آج میری وجہ سے مکہ والوں کو معاف کیا گیا ہے۔یہ انتظام فرما کر آپ مکہ میں داخل ہوئے۔آپ نے حضرت خالد کو ایک دوسری جانب سے شہر میں داخل ہونے کا ارشاد فر مایا تھا اور انہیں سختی سے حکم دیا تھا کہ جب تک کوئی شخص تم سے لڑائی نہ کرے تم نے کسی سے لڑائی نہیں کرنی لیکن جس طرف سے حضرت خالد مکہ میں داخل ہوئے غالباً اُس طرف امن کا پیغام نہیں پہنچا تھا اس لیے اُس علاقہ کے لوگوں نے حضرت خالد کا مقابلہ کیا جس میں اُن کے 24 آدمی مارے گئے۔کسی نے دوڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچا دی۔آپ نے حضرت خالد کو بلایا اور سرزنش کی۔حضرت خالد نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کی ہدایت مجھے یاد ہے لیکن ان لوگوں نے ننگی تلواروں کے ساتھ ہمارا رستہ روکا اور ہم پر حملہ کیا۔11 اگر یہ لوگ ہم پر حملہ نہ کرتے تو میں بھی ان لوگوں کو قتل نہ کرتا۔بہر حال اس خفیف سے واقعہ کے سوا اور کوئی واقعہ نہ ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہو گئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس آ کر کھڑے ہوئے تو مکہ کے سارے رؤساء جو آپ پر چُھو کا کرتے تھے اور آپ کو مارا اور دکھ دیا کرتے تھے آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور آپ نے فرمایا اے مکہ کے لوگو! تمہیں یاد ہے کہ میں نے تو حید کا نعرہ بلند کیا اور تم نے مجھے گالیاں دیں، میں نے خدائے واحد کی پرستش کے لیے تمہیں کہا اور تم نے مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے، میں نے تم کو نیکی اور تقوی کی تعلیم دی مگر تم نے کہا کہ یہ شخص روپیہ کمانا چاہتا ہے یا شاید کسی خوبصورت عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن خدا نے میری مدد کی۔میں اکیلا تھا اور تم ہزاروں کی تی تعداد میں تھے۔سارا عرب تمہارے ساتھ تھا۔تم نے دیکھ لیا کہ خدا تعالیٰ کے نشانات کس طرح