خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 89

$1957 89 خطبات محمود جلد نمبر 38 فرشتہ کام کیا کرتا ہے۔اس لیے خواب میں جو میں نے دیکھا کہ میں حملہ آوروں کو پوری طرح ضرب لگانے میں کامیاب نہیں ہوا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ فرشتے ناکام رہے ہیں۔اور فرشتوں کے ناکام ہونے کے معنے یہ ہیں کہ بعض دفعہ کچھ لوگ ایسے بھی نکل آتے ہیں جو تو بہ اور استغفار کرنے والے ہوتے ہیں اور وہ اپنے اس تو بہ اور استغفار کی وجہ سے بچ جاتے ہیں۔لیکن جب اللہ تعالیٰ یہ دیکھتا ہے کہ اگر اس نے ان لوگوں کی تو بہ اور استغفار کو قبول کیا تو اس کے ماننے والے اور معتقدین کو زیادہ نقصان پہنچے گا تو وہ ان کی تو بہ اور استغفار کو نظر انداز کر دیتا ہے۔وہ اپنے ماننے والوں کو مدد دیتا ہے اور نہ ماننے والوں کے لیے جو امن کا موقع ہوتا ہے اُسے ضائع کر دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جماعت کی مدد کرے اور اگر اس کے اوپر کوئی حملہ ہونے والا ہے تو اُسے اس حملہ سے بچالے۔اور ان کی تائید ایسے رنگ میں کرے کہ وہ کامیاب و کامران ہونے کی صورت میں نکلیں۔اور اگر تھوڑی بہت اذیت احمدیوں کے لیے مقد رہے تو وہ اسے دور کر دے“۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: وو کچھ جنازے ہیں جو میں نماز جمعہ کے بعد پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک پرانی صحابیہ امام بی بی صاحبہ اہلیہ محمد اکبر صاحب ٹھیکیدار آف بٹالہ کا باہر پڑا ہے۔وہ نماز کے بعد مسجد سے باہر جا کر پڑھاؤں گا۔جو جنازے میں نماز کے بعد مسجد میں پڑھاؤں گا اُن میں سے ایک جنازہ فضل بی بی صاحبہ اہلیہ الہ بخش صاحب سکنہ قلعہ لال سنگھ ضلع گورداسپور کا ہے۔مرحومہ صحابیہ تھیں اور جلسہ سالانہ کے موقع قادیان جانے والے پیدل قافلہ کا کھانا پکایا کرتیں اور ان کی خدمت کیا کرتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں سیالکوٹ کی طرف سے لوگ پیدل قادیان آیا کرتے تھے اور رستہ میں پڑنے والے دیہات کی جماعتیں ان کی ضیافت کیا کرتی تھیں۔شکار ما چھیاں کی جماعت اس بات میں خاص طور پر مشہور تھی۔دوسرا جنازه داروغه ابتہاج علی صاحب زبیری شاہجہان پوری کا ہے۔مرحوم پرانے مخلص احمدی تھے۔ان کے بیٹے احتجاج علی صاحب بھی جو لائلپور میں رہتے ہیں بڑے مخلص ہیں۔تیسرا جنازہ حاجی فضل محمد صاحب کابلی اور ان کی بیوی اور بچہ کا ہے۔حاجی صاحہ