خطبات محمود (جلد 38) — Page 69
$1957 69 خطبات محمود جلد نمبر 38 سلوک کریں گے۔عکرمہ کو اپنی بیوی کی باتوں کی وجہ سے اطمینان ہو گیا اور وہ مکہ واپس آ گیا۔مکہ واپس آ کر عکرمہ نے اپنی بیوی سے کہا مجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے چل۔چنانچہ وہ انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئی۔جب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو عرض کیا اے محمد ! ( ابھی رسول اللہ کہنے کی انہیں تو فیق نہیں ملی تھی ) میری بیوی میرے پاس گئی تھی اور کہتی تھی کہ آپ نے کہا ہے عکرمہ بے شک واپس آ جائے ہم اُسے قتل نہیں کریں گے اور نہ اس کے کسی قصور پر گرفت کریں گے کیا یہ سچ ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں! تمہاری بیوی سچ کہتی ہے۔عکرمہ نے پھر کہا اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) میں نے اسے کہا تھا کہ میں واپس تو چلا جاؤں مگر وہ مجھے مسلمان ہونے کے لیے مجبور کریں گے اور میں ابھی اسلام کی صداقت کا قائل نہیں۔اس لیے میں اسلام کے قبول کر لینے کے لیے تیار نہیں۔اگر انہوں نے ایسا کیا اور میں نے اسلام قبول نہ کیا تو پھر مجھے دوبارہ بھاگنا پڑے گا۔تو میری بیوی نے کہا تھا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کر آئی ہوں۔انہوں نے کہا ہے کہ وہ بے شک جس مذہب پر چاہے رہے ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہاری بیوی ٹھیک کہتی ہے۔میں نے یہی کہا تھا۔عکرمہ نے کہا پھر میں بے شک مشرک رہوں اور اپنے باپ دادا کے مذہب پر قائم رہوں آپ مجھے کچھ نہیں کہیں گے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر گز نہیں۔تم بے شک اپنے باپ دادا کے مذہب پر قائم رہو ہم تمہیں مسلمان ہونے کے لیے مجبور نہیں کریں گے تمہیں پوری آزادی دیں گے اور تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں گے۔یہ پہلا موقع تھا کہ عکرمہ کے دل میں اسلام کی صداقت آئی۔جب اُس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ حوصلہ دیکھا تو اس نے سمجھ لیا کہ خدا تعالیٰ کے رسول کے سوا ایسی بات کوئی نہیں کہہ سکتا اور بے اختیار ہو کر کہنے لگا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔اور پھر شرم سے اپنا سر جھکا لیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی حیا کی حالت کو دیکھ کر اُن کے دل کی تسلی کے لیے فرمایا۔عکرمہ ! ہم نے تمہیں صرف معاف ہی نہیں کیا بلکہ اس سے زائد یہ بات بھی ہے کہ ہم تمہیں بڑے بڑے انعامات دیں گے۔عکرمہ نے کہا يَا رَسُولَ الله ! مجھے انعاموں کی ضرورت نہیں۔مجھے صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ