خطبات محمود (جلد 38) — Page 68
$1957 68 خطبات محمود جلد نمبر 38 ہو گئے ہیں اور مکہ والوں پر غالب آگئے ہیں جس کی وجہ سے وہ جان کے خوف کے مارے مکہ سے بھاگ گیا ہے۔يَا رَسُولَ اللہ ! میں بندرگاہ پر جا کر اُس کو واپس آنے کے لیے کہوں گی لیکن اگر اُس کی نے یہ کہا کہ میں نے اسلام کو کبھی بھی قبول نہیں کرنا۔ہاں ! اگر اس کی حقانیت میرے دل پر ظاہر ہوگئی تو ی میں اسے قبول کرلوں گا اس سے پہلے میں قبول نہیں کروں گا تو يَا رَسُولَ الله ! پھر کیا بنے گا ؟ آپ نے فرمایا اسے کہ دینا کہ اگر وہ اسلام قبول نہ بھی کرے پھر بھی ہم اُسے کچھ نہیں کہیں گے۔وہ اپنی مرضی سے اسلام کو قبول کرے تو کرے ہم اُس پر کوئی جبر نہیں کریں گے۔چنانچہ وہ بندرگاہ پرگئی۔جہاز چلنے ہی والا تھا اور اس طرح عکرمہ عرب کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کے لیے تیار تھے کہ پراگندہ سر اور پریشان بیوی اُن کے پاس پہنچی اور کہا اے میرے چچا کے بیٹے ! ( عرب عورتیں اپنے خاوندوں کو چا کا بیٹا کہا کرتی تھیں) تو مجھے یہ بتا کہ اپنی قوم کے آدمی کی غلامی میں رہنا اچھا ہوتا ہے یا کسی غیر کی غلامی میں؟ عکرمہ نے کہا اپنی قوم کے کسی شخص کی غلامی میں رہنا بہر حال بہتر ہے۔اس پر اُن کی بیوی نے کہا پھر تو حبشہ کو چلا ہے۔حبشہ والے تو غیر ہیں اور محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے قریبی رشتہ دار ہیں اور ہم قوم ہیں۔پھر اگر محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تمہارے ہم مذہب نہیں تو حبشہ والوں کا مذہب بھی تو اور ہے۔تو کیوں اپنے ملک میں واپس نہیں چلا جاتا ؟ عکرمہ نے کہا بیوی! میں تو اس لیے بھاگا ہوں کہ محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مار ڈالنا تھا۔بیوی نے کہا یہ بات غلط ہے اور تمہاری بدظنی ہے۔میں خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کومل کر آئی ہوں اور آپ نے کہا ہے کہ میرا عکرمہ کو مارنے کا کوئی ارادہ نہیں۔وہ بے شک اپنے ملک میں واپس آ جائے۔پھر اُسے جو طبہ تھا وہی ہوا۔عکرمہ نے کہا بیوی! میں واپس تو چلا جاؤں لیکن وہ مجھے مسلمان ہونے پر مجبور کریں گے اور میں نے اسلام قبول نہیں کرنا۔ہاں ! اسلام کی صداقت میرے دل پر واضح ہوگئی تو مجھے اس کے قبول کرنے میں کوئی عذر نہیں ہو گا۔لیکن اُس وقت تک کہ اسلام کی صداقت مجھ پر واضح ہو جائے میں اپنے باپ دادا کے مذہب پر قائم رہوں گا۔اگر وہ مجھے اس بات کی اجازت دے دیں تو میں واپس آ جاؤں گا ورنہ نہیں۔بیوی نے کہا میں یہ بات بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کر آئی ہوں۔انہوں نے کہا تھا کہ ہم اس پر کوئی جبر نہیں کریں گے۔وہ جس مذہب پر چاہے قائم رہے ہم اُسے ہرگز اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کریں گے اور یہ نہیں کہیں گے کہ وہ اپنا مذ ہب ترک کر دے اور اس کے ساتھ محبت کا