خطبات محمود (جلد 38) — Page 38
$1957 38 خطبات محمود جلد نمبر 38 اس کا بہت بُرا بدلہ دیا ہے اور پنڈت نہرو نے صلح کی طرف جو قدم اٹھایا تھا کشمیر میں پھر رائے شماری ہی کے متعلق قرار داد پیش کر کے امریکہ نے اُسے ٹھکرا دیا ہے۔مگر چو این لائی صاحب کو یہ خیال نہ آیا کہ وہ ابھی تھوڑے دن ہوئے پاکستان ہو کر گئے ہیں اور پاکستان میں وہ بھی گڈول (GOOD WILL مشن پر آئے تھے۔یہاں اُن کی بڑی عزت ہوئی۔تمام پاکستان میں اُن کی پارٹیاں ہوئیں، بڑے بڑے نعرے لگے ، بڑے بڑے جلوس نکلے مگر انہوں نے واپس جا کر اس کا نہایت بُر ابدلہ دیا۔امریکہ پر جو انہوں نے اعتراض کیا ہے کہ پنڈت نہر ووہاں گئے تھے لیکن آئزن ہاور نے اُن کی قدر نہ کی۔اس کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ چو این لائی صاحب آپ بھی پاکستان آئے تھے تو پاکستان نے آپ کی بڑی قدر کی لیکن آپ نے اس عزت کی جو اُس نے آپ کی کی قدر نہ کی۔پاکستان نے آپ کے اعزاز میں بہت کچھ کیا ، بہت سے جلوس نکالے لیکن آپ نے اس کی بے قدری کی۔اور یہاں تو اس کی تعریفیں کرتے رہے لیکن اس ملک سے باہر گئے تو کہہ دیا کہ کشمیر کے معاملہ میں ہندوستان سے بڑی بے انصافی ہوئی ہے۔یہ ایک سیاسی چال ہے جو آپ نے چلی ہے اور اگر آپ کو سیاسی چال چلنے کا حق حاصل ہے تو جنرل آئزن ہاور کو کیوں یہ حق حاصل نہیں؟ یو۔این۔اوکو کیوں یہ حق حاصل نہیں ؟ اگر آپ ایک ملک کی دعوتیں کھا کر اور اس میں جلوس نکلوا کر اور اس کے تعریفی نعرے سننے کے بعد اپنے ملک میں واپس جا کر ایک ایسی بات کہہ سکتے ہیں جو اُس کی دل شکنی کا موجب ہو تو کیا وجہ ہے کہ جنرل آئزن ہاور یہ بات نہیں کر سکتا ؟ کیا وجہ ہے کہ یو۔این۔اور یہ بات نہیں کہہ سکتی جو کچھ آپ کر سکتے ہیں؟ وہ وہ بھی کر سکتے ہیں۔جو کچھ آپ نے کہا تھا وہی کچھ انہوں نے کہا ہے۔اس میں کوئی فرق نہیں۔آپ نے بھی اپنے دورہ کا نام مکڈول مشن رکھا اور یہاں پاکستان کی تعریفیں کیں۔اور پھر اس ملک سے باہر جا کر اس کی مذمت کی اور کشمیر کا لی معاملہ جو اس کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے اس میں ہندوستان کی تائید کی اور جنرل آئزن ہاور کو گالیاں دیں کہ اس نے پنڈت نہرو کے امریکہ جانے کی قدر نہیں کی۔مگر یہ ساری بات ایک سیاسی چال ہے اور سیاسیات کے لحاظ سے ایسا ہو جاتا ہے دین کے لحاظ سے ایسا نہیں ہوتا۔آپ نے اپنے فعل سے صرف یہی ثابت کیا ہے کہ آپ دیندار نہیں ہیں محض سیاسی آدمی ہیں۔جنرل آئزن ہاور نے بھی یہ دعوای کبھی نہیں کیا کہ وہ دیندار ہے۔وہ بھی یہی کہتا ہے کہ میں سیاسی آدمی