خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 231

$1957 231 خطبات محمود جلد نمبر 38 جو یہاں آتے ہیں وہ کہیں گے کہ ہم بھی تو اس شہر میں جاتے ہیں اور مسجد میں نماز پڑھتے ہیں ہم بھی چندہ دیتے ہیں۔اس لیے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔آپ لوگ کوشش کریں گے تو خدا تعالیٰ بھی مدد دے پس کوشش کرو کہ اس ساری زمین میں مسجد بن جائے۔مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں زمین کا کوئی حصہ بیچنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور لاہور کی جماعت اپنی کوشش سے ہی ایک عالیشان مسجد بنالے گی۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک دو سال کے بعد صدرانجمن احمد یہ بھی کچھ روپیہ تمہیں قرض کے طور پر دے دے اور اس طرح تمہیں مددمل جائے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ خود لاہور کی جماعت میں اتنی طاقت ہے کہ وہ اس مسجد کو بنا سکتی ہے۔کراچی کی جماعت دو مسجدیں بنا چکی ہے۔ایک اُس نے وکٹوریہ روڈ پر بنائی اور دوسری مارٹن روڈ پر۔مارٹن روڈ والی مسجد کی عمارت گو زیادہ ہے شاندار نہیں لیکن بہر حال اُس جماعت نے دو مساجد بنالی ہیں۔بے شک کراچی کی جماعت لاہور کی جماعت کی نسبت زیادہ مالدار ہے اور اُس کی تعداد بھی اس سے زیادہ ہے۔مگر ایمان تعداد کو نہیں دیکھا کرتا۔مجھے یاد ہے پچھلے سال میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ چنیوٹ کا ایک سنارلر کا میرے پاس آیا۔اُس کے ہاتھ میں ململ کے کپڑے میں بندھی ہوئی کوئی چیز تھی۔وہ اُس نے مجھے دے دی اور پھر کہا کہ اس پوٹلی میں سونے کے دو کڑے ہیں جو میری والدہ نے مجھے دیئے ہیں۔میری والدہ کہتی ہے کہ یہ کڑے میں نے کسی خاص مقصد کے لیے رکھے ہوئے تھے۔لیکن اب میں چاہتی ہوں کہ آپ انہیں بیچ کر کسی دینی کام میں لگالیں۔چنانچہ میں نے انہیں بیچ کر اُن کی قیمت مسجد ہیگ میں دے دی۔میرا خیال ہے کہ وہ چار پانچ سو کے ہوں گے۔اسی طرح اب بھی جب میں ربوہ سے چلا ہوں ایک شخص نے مجھے لکھا کہ میرا بچہ بیمار ہو گیا تھا اور میری بیوی نے منت مانی تھی کہ اگر میرا بچہ بچ گیا تو میں فلاں زیور سلسلہ کو دے دوں گی۔غرض عورتیں بھی بہت کچھ چندہ میں دے دیتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ مردوں میں کسی چندہ کی تحریک کی۔اس کے بعد آپ نے فرمایا عورتوں سے کہہ دو وہ پردہ کر لیں میں انہیں بھی تحریک کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ پردہ کر لیا گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں تشریف لے گئے۔آپ نے فرمایا میں نے ابھی