خطبات محمود (جلد 38) — Page 230
خطبات محمود جلد نمبر 38 35 230 $1957 پس جماعت کوشش کرے کہ چندہ کر کے اس ساری زمین کو مسجد میں شامل کرلے۔اس طرح یہ مسجد اتنی بڑی ہو جائے گی کہ لاہور کی اور کوئی مسجد اس کے برابر نہیں ہو گی۔شاہی مسجد بھی اس سے چھوٹی ہوگی کیونکہ وہ زیادہ سے زیادہ آٹھ نو کنال میں ہو گی۔پھر نہ صرف یہ مسجد ہی لاہور میں سب سے بڑی ہوگی بلکہ چونکہ مسجد خدا تعالیٰ کا گھر ہوتا ہے اس لیے تمہاری جماعت بھی لاہور میں سب سے بڑی جماعت ہو جائے گی۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو کوئی دنیا میں مسجد بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے۔3 اب یہ سیدھی بات ہے کہ جب پانچ چھ کنال زمین مسجد بنے گی تو جنت میں بھی تمہارے لیے ایک کوٹھی بن جائے گی۔لیکن جب یہ مسجد بنے گی جو 3E کنال میں ہوگی تو خدا تعالیٰ تمہارے لیے جنت میں ایک عظیم الشان محل بنائے گا۔اور تم یہ نہ سمجھو کہ تمہیں اتنی بڑی مسجد بنانے کی توفیق نہیں۔اتنی بڑی مسجد بنانے کی طاقت تم میں موجود ہے۔مجھے بتایا گیا ہے کہ اس وقت جمعہ میں تین ساڑھے تین ہزار احمدی موجود ہیں۔اگر تین ہزار بھی فرض کر لیے جائیں اور ان میں سے ہر ایک پچاس روپیہ مسجد کے لیے دے تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ جمع ہو جاتا ہے۔پھر شہریوں کی مالی حالت گاؤں والوں کی نسبت بہت اچھی ہوتی ہے اس لیے بعض دوست پچاس روپیہ سے بھی زیادہ دے سکتے ہیں اور اس طرح بہت زیادہ رقم جمع ہوسکتی ہے۔میں نے سنا ہے کہ شیخ بشیر احمد صاحب ایک شخص کے پاس مسجد کے لیے چندہ لینے گئے تو اُس نے پوچھا آپ میرے متعلق کیا خیال کرتے ہیں کہ میں کتنی رقم دے سکتا ہوں ؟ انہوں نے خیال کیا کہ اگر میں نے تھوڑی رقم مانگی تو میرے دل میں خلش رہے گی کہ شاید میں اس سے زیادہ رقم مانگتا تو یہ اتنی رقم بھی دے دیتا اور اگر میں نے زیادہ روپیہ مانگا تو شخص خیال کرے گا کہ مجھ پر بہت زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا۔ہے۔آخر سوچ بچار کے بعد میں نے کہا آپ پانچ ہزار روپیہ دے دیں۔اس پر اُس نے بیس ہزار روپیہ کا چیک کاٹ کر دے دیا۔پس یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بعید نہیں کہ یہاں اتنی بڑی مسجد بن جائے۔یہ مرکزی جگہ ہے اور سارے پاکستان سے لوگ یہاں آتے ہیں۔ساری جماعت کا چندہ پچاس لاکھ کے قریب ہوتا ہے۔اس لیے اس مسجد کے لیے دو تین لاکھ روپیہ دے دینا جماعت کے لیے کوئی مشکل نہیں۔اول تو یہاں کے احمدی ہی اتنا چندہ دے دیں گے۔لیکن اگر وہ نہ دے سکیں تو سارے پاکستان والے